نواز شریف پاکستان نہیں جائیں گے کیونکہ ۔۔۔۔ اسحاق ڈار نے پاکستانیوں کو بڑی بریکنگ نیوز دی ، قصہ ہی ختم ہو گیا

لندن (ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ کے سینیئر رہنما اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ساتھی اسحاق ڈار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور پاکستانی حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود، میاں نواز شریف کو برطانیہ سے پاکستان نہیں لے جایا سکتا۔بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔

ایک خصوصی انٹرویو میں لندن میں مقیم پاکستان کے سابق وزیرِ خزانہ نے کہا کہ جب تک نواز شریف کی صحت مکمل ٹھیک نہیں ہو جاتی وہ پاکستان نہیں جائیں گے۔خیال رہے کہ پاکستان کی حکومت نے حال ہی میں ایک خط کے ذریعے حکومتِ برطانیہ سے علاج کی غرض سے لندن جانے والے نواز شریف کو ملک بدر کرنے کی درخواست کی ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں کہا تھا کہ نواز شریف کو واپس پاکستان لانے کے لیے انھیں اگر برطانوی وزیراعظم سے رابطہ کرنا پڑا تو وہ ایسا کریں گے۔انٹرویو کے دوران اس سوال پر کہ میاں نواز شریف کو پاکستان کی عدالت نے نااہل قرار دیا اور کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ وہ پاکستان جا کر عدالتوں کا سامنا کریں، اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’ہم دیکھیں کہ عدالتوں کی فنکشننگ کیا ہے اور کیا وہ انصاف کرتی نظر آرہی ہیں۔ ‘ان کے بقول ’ایک جھوٹے مقدمے میں ایک ایسے جج سے سزا دلوائی گئی جن کی اپنی نوکری مس کنڈکٹ کی وجہ سے ختم ہوئی ہے اور آئی ایس آئی کے ایک کرنل کو ان کے کمرے سے نکلتے دیکھا گیا جو منہ چھپاتے پھر رہے تھے۔‘انٹرویو کے دوران اسحاق ڈار نے یہ الزام دہرایا کہ 2018 کا الیکشن چرایا گیا اور اس کا الزام فوج کے سربراہ اور بعض دیگر اہلکاروں پر عائد ہوتا ہے۔ تاہم بارہا پوچھنے پر بھی کہ ان کے پاس اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے کیا ٹھوس شواہد ہیں، اسحاق ڈار نے کہا کہ اب یہ حقیقت سب نے بیان کردی ہے اور دنیا جانتی ہے۔

انھوں نے جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان کے دو سینیئر رہنماؤں مولانا غفور حیدری اور حافظ حسین احمد کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان رہنماؤں نے آرمی چیف کے ساتھ ملاقات میں جو باتیں ہوئی تھیں کہ نواز شریف کو روکنا ہے اور عمران خان کو لانا ہے، وہ بیان کر دی ہیں۔اسحاق ڈار نے اپنی دلیل میں یہ بھی کہا کہ پولنگ کے دن پولنگ سٹیشنوں پر فوجیوں کی تعیناتی اور الیکشن رزلٹ سسٹم کو کئی گھنٹوں تک بند کیا جانا بھی دھاندلی کی دلیل ہے۔ان کے بقول اب فیفن اور دیگر عالمی ادارے اور ذرائع ابلاغ بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی۔ اس کے علاوہ انھوں نے الزام لگایا کہ پری پول دھاندلی میں ان کی جماعت اور دوسری جماعتوں کے الیکٹبلز کی وفاداریاں نیب اور ایف آئی اے کو استعمال کر کے تبدیل کرائی گئیں۔پاکستان کے سابق وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ فوج کا ادارہ قابل احترام ہے، اس کی ملک اور قوم کے لیے بہت قربانیاں ہیں اور مسلم لیگ کا فوج کے ساتھ قریبی تعلق ہے۔ ’جب بھی ملک کے دفاع کا معاملہ آیا ہم نے فوج اور اداروں کا دفاع کیا، دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا۔‘ تاہم ان کے بقول کچھ افراد نے ’عمران خان کو لانے کے لیے انٹریگ کی جس میں نیب، ایف آئی اے اور دیگر اداروں کو استعمال کیا گیا۔‘اس سوال پہ کہ فوج کے بعض افراد کا ان سے کیا تضاد یا جھگڑا ہے تو اسحاق ڈار نے ڈان لیکس کا حوالہ دیا

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں تھا اور ان کی حکومت نے دور برس اقدامات کر کے ملک کو گرے لسٹ سے نکالا جس کے بعد ڈان لیکس کا معاملہ ہوا۔اس سوال پر کہ ایک طرف تو نواز شریف آرمی چیف پر الزام عائد کرتے ہیں اور دوسری جانب انھی کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے لیے مسلم لیگ ن نے ووٹ کیوں دیا؟، اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’میاں صاحب نے قومی مفاد میں اس کی اجازت دی تھی۔‘ان سے پوچھا گیا کہ اگر ان کے بقول ریاست کے اداروں میں موجود بعض افراد مسلم لیگ ن کو حکومت میں آنے سے روکنا چاہتے ہیں، تو پھر ایسی صورت میں ان کی جماعت کا مستقبل کیا ہوگا، اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’جنرل ریٹائرڈ مشرف کی فوجی بغاوت کے بعد بھی یہی صورتحال تھی، آج بتائیں کہ مشرف کہاں ہیں؟ ہماری سیاست تو آج بھی ہے۔‘اس سوال پر کہ وزیراعظم عمران خان نے ملکی معیشت کے بارے میں اپنی ایک حالیہ ٹویٹ میں کہا ہے کہ ستمبر کے مہینے میں ملک میں کرنٹ اکاؤنٹ 792 ملین ڈالر فاضل ہے، برآمدات میں 29 فیصد جبکہ ترسیلات زر یا ریمیٹنس میں نو فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ اشارے تو ملک کے لیے اچھے ہیں، سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایک مہینے کی بنیاد پر حکومت کو نہیں پرکھنا چاہیے۔’اس نے دو برس میں پرفارم نہیں کیا، 51 ارب ڈالر جی ڈی پی کا نقصان کیا۔ ہم نے تقریباً 83 ارب ڈالر جی ڈی پی بڑھائی تھی۔ ہم مستحکم کرنسی چھوڑ گئے تھے، انھوں نے اسے بے قدر بنا دیا جس سے قرضوں کی قیمت اور بڑھ گئی۔ سٹاک مارکیٹ اور دیگر نقصانات کو بھی شامل کرلیں تو ایک سو سے ایک سو دس ارب ڈالر کا ملک کو نقصان دے چکے ہیں اور ان ہی کا حوصلہ ہے کہ اتنا نقصان کرکے اس طرح کے ٹویٹ کرتے ہیں۔ انھوں نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کے بجائے ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو بےروزگار کر دیا ہے۔‘

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.