نوجوانوں کے روزگار میں اضافہ۔۔۔!!!وزیراعظم عمران خان نے وہ قدم اٹھا لیا جس کا سب کو بڑی بے صبری سے انتظار تھا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع کی فراہمی اور برٓمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔نجی چینل دنیا نیوز کے مطابق وہ وزیراعظم عمران خان نے درمیانے درجے کے کاروبار سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی ۔وزیراعظم عمران خان اجلاس سے خطاب

کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کا فروغ ترجیحی شعبوں میں اہداف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ گزشتہ حکومتوںنے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو نظر انداز کیا جس سے ملکی معیشت پر منفی اثرات پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ قرض کی فراہمی، ٹیکس کا آسان نظام اور کاروبار میں سہولت سمیت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو ممکنہ سہولتیں فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی مجوزہ پالیسی پر عملدارآمد کے حوالے سے لائحہ عمل کو فوری حتمی شکل دینے کی ہدایت کی۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف نے پارٹی کے تمام ارکان قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی،سینیٹرز اور ٹکٹ ہولڈرز کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو بہت دیر سے سیاست کے میدان میں ہیں اور پاکستان کے عوام کی خدمت کا فریضہ اٹھایا ہواہے ، آپ کے کندھوں پر ذمہ داری ہے ، آپ بھی تو سوچتے ہوں گے کہ پاکستان کے اندر کیا ہوتاہے کہ کبھی یہاں پر ایک نظام ہوتاہے اور پھر اسے ختم کر کے دوسرا نظام آجاتاہے ، اس کے بعد تیسرا آجاتاہے ، یہ پاکستان کا آئین ہے جس کو آپ کئی مرتبہ پڑھ چکے ہوں گے ،میں بھی پڑھ چکا ہوں ، اس آئین کے مطابق نا پارلیمنٹ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ ہی عدلیہ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ پاکستان کے کئی دوسرے اداروں کو چلنے دیا جاتاہے ، ایسی طاقتیں جو اس پر مکمل طور پر حاوی ہو جاتی ہیں، زیادہ دور نہ جائیں 2017 میں یہ پاکستان کی خدمت کا ہم اپنا فریضہ انجام دے رہے تھے ،میں ہی اس فریضے کی سربراہی کر رہا تھا ، پاکستان کا وزیراعظم تھا ، یکا یک کیا ہو گیا ، کیا ہوا کہ مجھے بالکل مکھن سے بال کی طرح نکال کر پھینک دیا گیا ، کچھ آپ کو سمجھ آتی ہے، تو آتی ہو گی، مجھے نہیں آتی ،یہ حقیقت ہے ،پھر ایک وزیراعظم کو آپ نکال رہے ہیں ، کوئی معقول وجہ ہو تو میں بھی کہوں کے معقول وجہ تھی ، اگر میرے ساتھ یہ سلوک ہواہے تو اس کے پیچھے کو ئی معقول وجہ ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ، میں کہتا کہ اس میں میرا بھی قصور ہے تو یہ فیصلہ میرے خلاف آیاہے تو ٹھیک ہے ، مجھے اپنے کیے کی سزا ملی ہے ، لیکن کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایک شخص کو اس لیے وزارت عظمیٰ سے نکال باہر کریں کہ اس نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، اور اس کے پاس ایک اقامہ تھا ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *