انتظامیہ نے قصبے کی حدود میں لوگوں پر پابندی عائد کر رکھی

خبر دار ہوشیار ! یہا ں مر-نا منع ہے ۔۔۔۔ دنیا کا وہ ملک جہاں آپ مر جائیں تو اس کا باقائدہ جرمانہ بھرنا پڑتا ہے؟ جانیے

لاہور(ویب ڈیسک)ناروے کے سرد ترین پہاڑی قصبے لونگ ائیر بائن کی انتظامیہ نے قصبے کی حدود میں لوگوں کے مرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے. قریب المرگ اور بیماری افراد اور ان کے لواحقین کو مطلع کر دیا گہا ہے کہ جتنی جلد ہو سکے مرنے کیلئے کسی اور علاقے میں چلے جائیں.اگر وہ اس قصبے میں وارننگ کے باوجود مر گئے تو حکومت مرنے والوں کے لواحقین پرجرمانہ عائد کر دے گی.جبکہ قصبے کی حدود میں تدفین پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے. مقامی حکام کا کہنا ہے کہ لونگ ائیر بائن میں چونکہ اوسطاَ درجہ حرارت منفی 18سے 20ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا ہے اس لئے مدفون لاشیں سو سال تک بھی گل کر خاک نہیں ہوتیں. یہی وجہ ہے کہ سال ہا سال پرانی ’’تازہ لاشیں‘‘کھانے کیلئے جنگلی جانور اکثر مقامی قبرستان پر مقامی قبرستان پر یلغار کر دیتے ہیں. ان کی ’’ضیافت‘‘سے بچ جانے والی لاشیں نہ صرف وبائی امراض پھیلانے کا سبب بن سکتی ہیں بلکہ دیکھنے والوں پر قصبے کا اچھا تاثر بھی نہیں چھوڑتیں. برطانوی جریدے ڈیلی میل آن لائن نے ایک دلچسپ رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسکینڈے نیو بن ملک ناروے کا پہاڑی قصبہ لوگ ائیر بائن انتہائی خوبصورت اور دلکش نظارے لئے ہوئے ہے. یہاں ملکی و غیر ملکی سیاح جوق در جوق آتے ہیں. تاہم اب قصبے کی انتظامیہ نے مقامی افراد اور سیاحوں کو متنبہ کر دیا ہے کہ یہاں مر-نا منع ہے.اس حسین جگہ پر مرنے والے کے لواحقین کو نہ صرف بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑے گا بلکہ میت کو دفن کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی. نارویجن قصبے میں مرنے پر پابندی کا پس منظر بیان کرتے ہوئے مقامی میڈیا نےبتایا ہے کہ شدید سردی کے سبب قصبے میں دفنائی جانے والی لاشیں کئی دہائیوں تک ’’ڈی کمپوز‘‘رہتی ہیں. یعنی یہ گل

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *