نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کس ڈیل کے تحت ہوئی اور حکومت اب شور کیوں مچا رہی ہے؟ مریم نواز نے تمام ثبوت پیش کرتے ہوئے بڑے رازوں سے پردہ اٹھا دیا

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ میڈیا پر طویل عرصے تک میرے نام پر پابندی کے بعد پہلی مرتبہ اس وقت نام منظر عام پر آیا جب میں اپنے والد اور پارٹی کے قائد نواز شریف سے ملنے کے لیے کوٹ لکھپت جیل گئی اور قومی احتساب بیورو (نیب) نے مجھے والد کے سامنے گرفتار کیا۔

نجی چینل ‘آج ٹی وی’ کی میزبان عاصمہ شیرازی کے پروگرام ‘فیصلہ ہے آپ کا’ میں انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘تب میڈیا مجبور ہوا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے خاتون رہنما سے مریم نواز کہنے پر’۔پروگرام کی میزبان عاصمہ شیرازی نے کہا کہ ‘آپ کی جانب سے طویل خاموشی کی وجہ سے میڈیا میں کچھ نہیں چلا اور آپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی خالی تھا’۔اس بات پر مریم نواز نے کہا کہ والدہ کے انتقال اور والد (نواز شریف) کی طبیعت خراب ہونے اور پھر ان کے بیرون ملک معالج کی روانگی تک میں خوف میں مبتلا تھی کہ میرے کچھ کہنے سے کہیں والد پر کوئی سختی نہ آجائے۔انہوں نے اپنی بات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘جب میرے والد کی حالات زیادہ خراب ہوئی تو حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور تب میں بھی خود کچھ دیر کے لیے خاموش رہی کیونکہ میری وجہ سے سابق وزیراعظم کی زندگی آزمائش میں آئے’۔مریم نواز نے کہا کہ ‘ہمارا مقابلہ انتہائی کم ظرف لوگوں سے ہے جنہیں رشتوں کی پاسداری کا لحاظ نہیں ہے اور وہ صرف انتقام کی آگ میں جل رہے ہیں’۔پارٹی کی نائب صدر نے کہا کہ نواز شریف علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنا حکومت کی مجبوری بن گئی تھی تاہم اس میں کسی ڈیل کا کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو نواز شریف سے ہمدردی نہیں تھی بلکہ وہ جانتے تھے کہ اگر سابق وزیراعظم کو کچھ ہوا تو وہ حالات نہیں سنبھال سکیں گے۔مریم نواز نے کہا کہ ‘دراصل حکومت ممکنہ نئائج سے خوفزدہ ہوگئی تھی’۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *