سب ڈرامہ : نہ بھٹو قوم سے مخلص تھا اور نہ نواز شریف ہے ، اور یہ اپنے خان صاحب تو ۔۔۔۔۔ ہارون الرشید نے چند جملے کہہ کر قصہ ہی ختم کردیا ، جمہوروں کا بڑا راز فاش

لاہور (ویب ڈیسک) جمہوریت بجا مگر معاشرے کو ثمر مند کرنے والا ایک پائیدار جمہوری نظام اخلاقی اصولوں سے اٹل وابستگی کا تقاضا کرتاہے۔۔۔ اور یہی وہ سبق ہے، جسے شاید ہم یکسر بھلا چکے۔ وہ سیاسی لیڈر ہماری گردنوں پرمسلّط ہیں، جن کے لیے ان کی ذات، خاندا ن اور مالی مفادات ہی سب کچھ ہیں۔

نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بیرونِ ملک ان کی جائیدادیں ہیں۔ اپنی سیاسی وراثت اولاد کو منتقل کرنے کے آرزومند ہیں اور قوم کے مستقبل سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں۔ بھاگ ان بردہ فروشوں سے، کہاں کے بھائی بیچ ہی دیویں جو یو سف سا برادر ہووے جیسا کہ بار بار عرض کرتاہوں، اجتماعی زندگی کے دو اہم ترین میدان مذہب اور سیاست ہیں۔ ان دونوں کو ہم نے ادنیٰ ترین لوگوں کے سپرد کر رکھا ہے۔ عصرِ رواں ہی نہیں، مولوی صاحب دین کی روح سے بھی یکسر نا آشنا ہیں اور سیاستدان کون ہیں؟ وہ نعرہ فروش، جو فوجی حکومتوں نے ہماری گردنوں پر مسلّط کر دیے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے وارث، نواز شریف، ان کے اعزہ و اقربا اور بعد میں آنے والے بھی۔ بھٹو اپنی قوم سے مخلص تھے تو آٹھ برس بے رحم فوجی ڈکٹیٹر کے نائب اور ثنا خواں کیوں رہے۔ میاں محمد نواز شریف کو جمہوریت سے اگر کوئی تعلق ہوتا، کیا وہ جنرل محمد ضیاء الحق کی گود میں پروان چڑھتے؟ َ جدید جمہوری نظام کاسب سے اہم ادارہ سیاسی جماعت ہے۔ سیاسی پارٹی اگر خالص جمہوری خطوط پر استوار نہ ہوگی تو پارلیمنٹ کبھی موثر نہ ہوگی۔ وہ کابینہ کبھی وجود نہ پا سکے گی، جو ایک شخص کی بجائے قوم کا مفاد ملحوظ رکھے۔ صدر آصف علی زرداری کے وزراء ِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف تھے۔ کیا کوئی ہوش مند آدمی انہیں اپناکاروباری شریک بنانا پسند کرے گا؟میاں محمد نواز شریف کے دست و بازو ان کا خاندان اور بیشتر ان کے کشمیری النسل رفیق ہیں۔کپتان کی اپنی پارٹی عثمان بزدار کو منصب سونپنے کی حامی نہیں مگر انہیں اس کی کیا پرواہ۔ بخدا وہ ہمارے نہیں، ان کے نمائند ہ ہیں۔ ہمارے لیے نہیں، وہ ان کے لیے کام کریں گے۔ یہ بائیس کروڑ انسانوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ صرف سیاسی لیڈروں پر اسے چھوڑا نہیں جا سکتا۔ سلطانیء جمہور کا خواب فقط جوشِ خطابت نہیں حسنِ عمل کا تقاضا کرتا ہے، پیہم ریاضت اور پیہم نگرانی کا۔ میرؔ صاحب نے کہا تھا۔ خشک سیروں تنِ شاعر کا لہو ہوتاہے تب نظر آتی ہے اک مصرعہ ء ِ تر کی صورت۔۔۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *