’’ آرمی چیف سے کی جانے والی منتیں بے اثر ہوگئیں اس لیے اب لیگی رہنما۔۔۔۔‘‘ رؤف کلاسرا نے ناقابلِ یقین انکشاف کر دیا

لاہور(نیوز ڈیسک ) سینئرصحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ جب 27 فروری کو بھارتی پائلٹ ابھینندن کو پکڑا گیا تھا تو دونوں ممالک میں الگ طرح کی فضاء تھی، پاکستانی عوام اس بات پر بہت خوش تھی کہ بھارتی پائلٹ کو پکڑ لیا گیا، میں نے اس وقت ہی کہہ دیا تھا کہ پوری دنیا دیکھ

چکی ہے کہ پاکستان نے حدود کی خلاف ورزی کرنے پر بھارتی پائلٹ کو پکڑ لیا جو کہ مودی سرکار کی ایک بہت بڑی ناکامی تھی چونکہ پوری دنیا میں بھارت کی بے عزتی ہو چکی ہے لہذا اب ابھینندن کو رہا کیا جانا چاہئیے،میں نے یہ بات اس وقت کی جب کوئی بھی بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کی بات نہیں کر رہا تھا۔لیکن اگر ہم ایسا نہ کرتے تو اس کا نقصان ہوتا، بھارتی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا تھا لہذا بھارت کوئی بڑا قدم اٹھا سکتا تھا۔ایک بڑی جنگ سے بچنے کے لیے بھارت کو فیس سیونگ دینا ضروری تھی۔ رؤف کلاسرا نے مزید کہا کہ اب یہ باتیں سامنے آ رہی ہیں کہ بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے سے قبل آرمی چیف کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں۔میری اپوزیشن سے شکایت ہے کہ اگر آپ کو اس فیصلے پر اعتراض تھا تو اس وقت بات کرتے،اب آپ کیسے قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہہ سکتے ہیں کہ ابھینندن کو کیوں رہا کیا گیا۔یہ انتہائی شرمناک بات ہے،اپوزیشن کو سارا ماحول سمجھایا گیا تھا اور پھر اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا، اگر جنگ ہو جاتی تو یہاں پر غریبوں کے بچے مرتے ، ایاز صادق کے بچے تو دبئی بیٹھے ہیں۔انہوں نے اپنے بچوں کو چار چار کمپنیوں کا ممبر بنایا ہوا ہے،لیگی رہنماؤں کی جانب سے ایسی باتیں کرنا شرمناک ہے،اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ کسی معاملے پر لیگی رہنماؤں کو اعتماد میں نہ لیا جائے۔اب اگر ان کی آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے لڑائی چل رہی ہے ، اور منتیں کرنے کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو قومی رازوں سے پردہ اٹھانا شروع کر دیا۔رؤف کلاسرا نے مزید کہا کہ میں ابھینندن کے معاملے پر میں حکومت کے ساتھ ہوں۔حکومت نے اس معاملے کو بہت اچھے طریقے سے سنبھالا اور دونوں ممالک کو جنگ سے بچا لیا۔رؤف کلاسرا نے مزید کیا کہا ویڈیو میں ملاحظہ کیجئے :

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.