سندھ آئی جی معاملہ : عمران خان کی بجائے آرمی چیف نے بلاول بھٹو کو فون کیوں کیا ؟ تہلکہ خیز تفصیلات

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی بجائے وزیراعظم کو بلاول بھٹو کو فون کرنا چاہیے تھا،وزیراعظم کی ذمہ داری تھی کہ بلاول بھٹو سے رابطہ کرکے مسئلے کو حل کرواتے،سیاستدانوں کی اسٹیبلشمنٹ سے پہلے بات چیت خفیہ نہیں اعتماد کی بنیاد

پر ہوتی تھی، لیکن اب ایسا نہیں رہا، میں کہتا ہوں حکومت ختم ہوچکی ہے، جتنی جلدی معاملہ لپیٹا جائے بہتر ہوگا۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں کہا کہ اگر صبح 4بجے آئی جی گرفتار ہوسکتا ہے تو کوئی بھی گرفتار ہوسکتا ہے،مجھے یہاں سے اٹھا کر لے جائیں کون پوچھے گا؟لیکن گرفتاریاں مسئلے کا حل نہیں ہے، آئی جی سندھ کو اٹھایا ہے تو اب کس کو اٹھائیں گے؟ وزیراعلیٰ سندھ ، بلاول بھٹو، مریم نواز کو اٹھائیں گے؟ یہ سب کچھ کرسکتے ہیں، کیونکہ ملک میں قانون ہی نہیں ہے، گرفتاریوں سے کچھ نہیں ہوتا، گرفتاریوں سے حکومتیں کمزور ہوجاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت معیشت کو بہتر نہیں کرسکی، حکومت تو لوگوں کو اٹھانے میں مصروف ہیں۔ حکومت خود کہہ چکی ہے ، ہمارا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہم ہائبرڈ گورنمنٹ ہیں۔ حکومت مفلوج ہے، حکومت کا جو ماڈل لایا گیا تھاوہ ناکام ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ بات چیت آئین کی پاسداری ہے، ووٹ امانت ہے اس میں خیانت مت کریں، آئین میں خامی ہے تو میز پر بیٹھ کر بات کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم استعفے جب وقت آئے گا تو استعفے دیں گے۔ ہم جلسے کریں گے، احتجاج کریں گے، پھر لانگ مارچ ہوگا، اس کے بعد استعفوں کا آپشن بھی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، آئی جی کو اٹھانا جیسے معاملات سے جمہوریت کو خطرہ ہے، لیکن پی ڈی ایم سے جمہوریت کو خطرہ نہیں ہے، اس میں عوام کے مسائل کا حل موجو دہے۔شاہد خاقان نے کہا کہ اب ملک میں قومی حکومت کا وقت نہیں رہا، الیکشن کرانا ہوں گے، الیکشن کیسے ہوں گے یہ اسٹیک ہولڈڑز کو طے کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں پیشگوئی کرنے والا آدمی نہیں ہوں ، میں کہتا ہوں حکومت ختم ہوچکی ہے، جتنی جلدی معاملہ لپیٹا جائے بہتر ہوگا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.