مولا نا صاحب !!! اگر آپ نے تشددپر اکسایا تو ہم ساتھ نہیں دیں گے۔۔۔(ن)لیگ نے مولانا فضل الرحمان کو ایک دفعہ پھر اکیلا چھوڑ دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)ن لیگ کے رہنما مصدق ملک نے کہا ہے کہ مولانافضل الرحمان نے تشدد پر اکسایا تو ہم ساتھ نہیں دیں گے۔ سیاسی لوگوں کو غداراوریہودی ایجنٹ نہیں مانتا۔ لیگی رہنما مصدق ملک نے سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے نجی چینل اے آر وائی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ

حکومت نے گفتگو کے راستے بندکیے،پارلیمان میں بھی کوئی گفتگو نہیں ہوتی ،ا س لیے ہمارے پاس اب سڑکوں پر آنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ، ہم جب کوئی بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ این آر او مانگا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی لوگوں کو غدار اور یہودی ایجنٹ جیسے القابات سے نوازنا درست نہیں ، ہمارے ایک دوسرے سے سیاسی، نظریاتی اختلاف ہوسکتے ہیں لیکن سیاستدان غدار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کے خلاف پرامن اور آئینی حدود میں رہ کر احتجاج کریں گے ، اگر مولانا فضل الرحمان نے تشدد پر اکسایا تو ہم ساتھ نہیں دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محمد زبیر اپنی ملاقات کی وضاحت کرچکے اور نوازشریف نے بھی پارٹی رہنماﺅں کو ملاقاتوں سے منع کر دیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف نے پارٹی کے تمام ارکان قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی،سینیٹرز اور ٹکٹ ہولڈرز کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو بہت دیر سے سیاست کے میدان میں ہیں اور پاکستان کے عوام کی خدمت کا فریضہ اٹھایا ہواہے ، آپ کے کندھوں پر ذمہ داری ہے ، آپ بھی تو سوچتے ہوں گے کہ پاکستان کے اندر کیا ہوتاہے کہ کبھی یہاں پر ایک نظام ہوتاہے اور پھر اسے ختم کر کے دوسرا نظام آجاتاہے ، اس کے بعد تیسرا آجاتاہے ، یہ پاکستان کا آئین ہے جس کو آپ کئی مرتبہ پڑھ چکے ہوں گے ،میں بھی پڑھ چکا ہوں ، اس آئین کے مطابق نا پارلیمنٹ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ ہی عدلیہ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ پاکستان کے کئی دوسرے اداروں کو چلنے دیا جاتاہے ، ایسی طاقتیں جو اس پر مکمل طور پر حاوی ہو جاتی ہیں، زیادہ دور نہ جائیں 2017 میں یہ پاکستان کی خدمت کا ہم اپنا فریضہ انجام دے رہے تھے ،میں ہی اس فریضے کی سربراہی کر رہا تھا ، پاکستان کا وزیراعظم تھا ، یکا یک کیا ہو گیا ، کیا ہوا کہ مجھے بالکل مکھن سے بال کی طرح نکال کر پھینک دیا گیا ، کچھ آپ کو سمجھ آتی ہے، تو آتی ہو گی، مجھے نہیں آتی ،یہ حقیقت ہے ،پھر ایک وزیراعظم کو آپ نکال رہے ہیں ، کوئی معقول وجہ ہو تو میں بھی کہوں کے معقول وجہ تھی ، اگر میرے ساتھ یہ سلوک ہواہے تو اس کے پیچھے کو ئی معقول وجہ ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ، میں کہتا کہ اس میں میرا بھی قصور ہے تو یہ فیصلہ میرے خلاف آیاہے تو ٹھیک ہے ، مجھے اپنے کیے کی سزا ملی ہے ، لیکن کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایک شخص کو اس لیے وزارت عظمیٰ سے نکال باہر کریں کہ اس نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، اور اس کے پاس ایک اقامہ تھا ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *