اہم ترین اتحادی جماعت نے اپوزیشن اتحاد میں شرکت کرنے کا اعلان کر دیا

تربت (ویب ڈیسک) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل وسینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہاہے کہ وفاقی حکومت کی دوغلی پالیسیوں کی وجہ سے ہم نے اپنے راستے الگ کئے،دوسالوں میں ہمارے 6 نکات پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آیا،بحالت مجبوری پارٹی کے ساتھیوں سے مشاورت کے بعد ہم نے حکومت سے اپنے راستے جدا کرلئے

اورپاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل ہوگئے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل ہونے سے پہلے ہم مسنگ پرسن سے لیکر بلوچستان کے تمام بنیادی مسائل تحریری طور پر انکو پیش کرچکے ہیں تمام ڈیموکریٹک پارٹیوں نے اس پر اتفاق کیا ہے ان خیالات ا کا اظہار انہوں نے تربت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی انھوں نے کہا کہ وفاق سے 9پوائنٹ میں ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع کی پسماندگی کو ختم کرنے کیلئے دوسو ارب روپے کا پیکج انکو ملنا چایئے پیکج ہم نے مانگا لیکن ہمارے بدلے 13 اور 15 ارب کا پیکج سندھ اور پنجاب کو دیا گیا کسی دوسرے صوبے کو ملنے کے خلاف نہیں لیکن ہمارا بھی حق بنتا ہے،انھوں نے کہا کہ وفاق کے ذمہ 6 فیصد کے حساب سے بلوچستان کا جو حق بنتا ہے اسے دینے کیلئے وفاق تیار نہیں ہے جب کیویڑے کے نمک پر پنجاب کا حق بنتا ہے سائل سمندر اور گوادر پورٹ پر ہمارا حق کیوں نہیں، جزائر پاکستان کے حصے ہونے چایئے لیکن اس پر قبضہ بلوچستان کا ہونا چایئے ایک آرڈیننس کے ذریعے بلوچستان کے جزائر کو وفاق کے قبضے میں لینے کی کوشش کی جارہی ہے بلوچسان نیشنل پارٹی اسے پارلیمنٹ میں پیش کرے گی اور کورٹ میں چیلنج کرے گی انھوں نے کہا کہ اس وقت 29 ہزار وفاقی ملازمتوں پر بلوچستان کے کوٹے پر دوسرے صوبوں کے افراد براجمان ہیں جو کہ بلوچستان کے نوجوانوں کی حق تلفی ہے اس وقت وفاق میں بلوچستان کا نہ کوئی سکریٹری، نہ ڈائریکٹر اور نہ ایڈیشنل سکریٹری ہے وفاقی لیول پر بلوچستان کو یکسر نظرانداز کردیا گیا ہے انھوں نے کہا اس وقت ہم اپنے سائل سمندر سے محروم ہیں ہمارے مچیرے نان شبینہ کے محتاج ہوچکے ہیں جتنے بھی ٹرالر ہمارے سمندر کو صاف کررہے ہیں ہمارے بلوچستان اسمبلی کے اراکین اس میں شامل ہیں جو کہ ہماری بدقسمتی ہے انھوں نے کہا کہ ہمارے معاش کا زیادہ تر انحصار ایران سے ہے لیکن اس پر بھی لائن ایجنسیز کو اعتراض ہے غریبوں کے روزگار اور چھوٹے موٹے کاروبار کو روکنے کے بجائے بارڈر کے کاروبار کے طریقہ کار کو ایک جامعہ حکمت عملی کے تحت آسان بنایا جائے اگر ایران بارڈر پر کاروبار پر پابندی عائد کرنا ہے یہاں کے بے روز گار لوگوں کیلئے متبادل روزگار کے مواقع پیدا کیئے جائیں انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایک بھی موٹروے نہیں ہے اگر پنجاب میں پچاس موٹروے بنائے گیئے ہیں اس پر اعتراض نہیں ہے لیکن بلوچستان کا بھی حق بنتا ہے اس سلسلے میں ہم نے چائنہ سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ ہم دینے کیلئے تیار ہیں اپنے ملک سے بات کرو انھوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹ بلوچستان کے حقوق کی جنگ ہر فورم پر اٹھاتی رہے گی جمہوری انداز میں اپنے حق کی جنگ لڑیں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *