عابد علی ایک ماہ تک کیا کرتا رہا؟ آئی جی پنجاب نے وہ باتیں بتا دیں جس سے اب تک ہو کوئی لاعلم تھا

لاہور(ویب ڈیسک) آئی جی پنجاب انعام غنی کا کہنا ہے کہ عابد ملہی کی گرفتاری کے لیے 9 ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں،ملزم گرفتاری سے بچنے کے لیے مقامات بدلتا رہا۔فورٹ عباس،چنیوٹ،مانگا منڈی اور دیگر اضلاع میں گیا۔عابد ملہی کئی روز تک چنیوٹ میں ایک زمیندار کے پاس روپوش رہا ۔آئی جی پنجاب نے مزید بتایا کہ موٹروے

کیس کے ایک ملزم کی گرفتاری چند روز میں ہوئی۔عابد کے ساتھ بالا مستری نے ٹی وی پر خبر کی اطلا ع دی،اطلاع کی وجہ سے عابد ملہی کی گرفتاری میں تاخیر ہوئی۔عابد ملہی کو برادر نسبتی کے موبائل فون نمبر کی مدد سے ٹریس کیا گیا۔ملزم مانگا منڈی بیوی سے ملنے گیا تو پولیس کی ٹیم نے گرفتار کیا۔ملزم عابد علی گھر کی دیوار پھلانگ کر داخل ہوا تو دھر لیا گیا،آئی جی پنجاب انعام غنی نے کہا کہ کیس میں پراسیکیوشن بھرپور انداز میں کریں گے۔دوسری جانب لاہور میں دوران تفتیش ملزم عابد ملہی نے اعتراف جرم کرنے کے علاوہ کئی انکشافات بھی کیے ہیں۔ پولیس کی تفتیش کے دوران ملزم نے بتایا کہ 9 ستمبر کی رات شفقت اور بالا مستری کیساتھ گجر پورہ کی جانب جا رہے تھے، تاہم بالا مستری راستے سے ہی واپس چلا گیا۔ موٹروے تک پہنچنے سے قبل میں نے اور شفقت نے 3 ٹرالیوں کو لوٹنے کی وارداتیں بھی کیں۔عابد ملہی کا بتانا ہے کہ خاتون سےگھڑی، زیورات اور نقدی لوٹنے کے بعد اسے موٹروے سے نیچے جانے کو کہا۔ موٹروے سے نیچے اتار کر خاتون کو زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ جب موٹروے پر ڈولفن پولیس آئی تو میں اور شفقت جائے وقوعہ پر ہی موجود تھے۔ ڈولفن اہلکاروں کی فائرنگ کے بعد ملزم شفقت کیساتھ وہاں سے فرار ہوگیا۔ بعد ازاں ماسک پہن کر کئی روز تک مختلف شہروں کے درمیان سفر کرتا رہا۔ اب پیسے ختم ہو جانے پر بیوی سے رابطہ کیا تو پولیس گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *