وزیراعظم نے جنرل(ر)عاصم باجوہ کا استعفی منظور کرلیا

وزیراعظم نے جنرل(ر)عاصم باجوہ کا استعفی منظور کرلیا

عمران خان سے معاون خصوصی کا عہدہ چھوڑنے کی درخواست منظور کر لی ہے. چیئرمین سی پیک اتھارٹی کا ٹوئٹ

اسلام آباد( -انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 اکتوبر ۔2020ء) لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کا عہدہ چھوڑ دیا ہے. اس حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ایک ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ میں نے وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی تھی کہ مجھے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کے اضافی عہدے سے دستبردار ہونے دیں‘عاصم سلیم باجوہ نے لکھا کہ وزیراعظم نے میری درخواست کو منظور کرلیا. خیال رہے کہ عاصم سلیم باجوہ چین پاک اقتصادی راہداری (سی پیک) کے چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ معاون خصوصی کے اضافی عہدے پر بھی فرائض انجام دے رہے تھے تاہم حال ہی میں ان کے خاندان کے اثاثوں سے متعلق سامنے آنے والے الزامات کے بعد انہوں نے ستمبر کے اوائل میں معاون خصوصی کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا. ستمبر کے اوائل میں عاصم سلیم باجوہ نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو بھجوا دیا تھا، تاہم وزیراعظم عمران خان نے ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا تھا اور کہا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی جانب سے جو ثبوت اور وضاحت پیش کی گئی وہ اس سے مطمئن ہیں وزیر اعظم نے انہیں بطور معاون خصوصی کام جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی.قبل ازیں عاصم سلیم باجوہ نے اپنے اوپر لگائے جانےوالے ان الزامات کی تردید کی تھی اور مذکورہ خبر سے متعلق 4 صفحات پر مشتمل تفصیلی بیان جاری کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ احمد نورانی نے 27 اگست 2020 کو نامعلوم ویب سائٹ پر میرے بارے میں خبر شائع کی، جسے غلط اور جھوٹی قرار دیتے ہوئے مسترد کرتا ہوں. انہوں نے کہا تھا کہ خبر میں الزام لگایا گیا کہ میں نے 22 جون 2020 کو بطور معاون خصوصی اپنے غلط اثاثے ظاہر کیے اور میں نے اپنی اہلیہ کی بیرون ملک سرمایہ کاری ظاہر نہیں کی، میرے بھائیوں نے امریکا میں کاروبار کیے جن میں ان کی ترقی کا تعلق پاک آرمی میں میری ترقی سے ہے جبکہ میرے بھائیوں اور بچوں کی ملکیت میں موجود مختلف کمپنیاں، کاروبار اور جائیدادیں ظاہر کی گئیں اور ان کی ملکیت اور مالیت سے متعلق بے بنیاد الزامات لگائے گئے.

ان کا کہنا تھا کہ 22 جون 2020 کو اہلیہ کے اثاثے اپنے ڈکلیئریشن میں چھپانے کا الزام بنیادی طور پر غلط ہے کیونکہ اس وقت میری اہلیہ بیرون ملک کسی کاروبار میں سرمایہ کار یا شیئرہولڈر نہیں رہی تھیں. ان کا کہنا تھا میری بیوی نے یکم جون 2020 کو بیرون ملک کی تمام کمپنیوں سے سرمایہ نکال لیا تھا اور امریکا کی سرکاری دستاویز میں اس کا ریکارڈ موجود ہے انہوں نے کہا تھا کہ حقیقت دیکھی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مجھ پر الزامات میری ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے لگائے گئے.

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *