پیپلز پارٹی والوں کی انوکھی چال : کیپٹن (ر) صفدر کو دراصل کس کے کہنے پر گرفتار کیا گیا ؟ حقیقت سامنے آگئی

کراچی (ویب ڈیسک) صوبائی وزیر برائے تعلیم سعید غنی کا کہنا ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سندھ حکومت کی ہدایات پر نہیں ہوئی۔سعید غنی نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سے متعلق کہا ہے کہ مزار قائد پر کیپٹن (ر) صفدر کی نعرے بازی کرنا

نامناسب تھا، جس انداز میں کراچی پولیس نے گرفتاری کی وہ بھی قابل مذمت ہے۔سعید غنی کا کہنا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سندھ حکومت کے دباؤ پر نہیں ہوئی، ایف آئی آر شام 7 بجے درج نہیں ہوئی، وقت غلط لکھا گیا ہے، گرفتاری کا فیصلہ سندھ حکومت کو اعتماد میں لے کرناچاہیے تھا۔صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ کیپٹن (ریٹائرڈ ) صفدر کی گرفتاری ریاست گردی ہے، اگر گرفتاری کے لیے ہمیں کہا بھی جاتا تو نہیں کرتے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ پولیس کا یہ اقدام پی ڈی ایم کی جماعتوں میں خلیج پیدا کرنے کی سازش کا حصہ ہے، پی ڈی ایم میں خلیج پیدا کرنے کی سازش ناکام بنائیں گے۔واضح رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ مزار قائد پر اٹھکیلیاں، نعرےبازی ، غیرسنجیدہ طرز عمل اور خلاف قانون ہے، اس کی سزا ہونی چاہیئے۔فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سے متعلق ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ پولیس کاکیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کاعمل قانون کےاحترام کابیانیہ ہے۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق مسلم لیگ نون کے رہنما اور مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر کا کہنا ہے کہ وزیراعلی سندھ کا کہنا ہے ان پر دباؤ ڈالا گیا ہے، مراد علی شاہ نے کہا کہ پولیس پر ریاست کا شدید دباؤ ہے۔محمد زبیر نے عزیز بھٹی تھانے کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ

سے بات ہوئی ہے اُن کا کہنا ہے کہ گرفتاری میں سندھ حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں۔محمد زبیر نے کہا کہ ریاست کی جانب سے ایسا آپریشن کیا گیا جیسے مخالفوں کے ساتھ کیا جاتا ہے، کیپٹن(ر)صفدر کو غیرقانونی طریقے اورغلط دفعات لگا کر گرفتار کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ میں سابق گورنر ہوں اور مجھ کو تھانے کے اندر نہیں جانے دیاگیا، وکلاء تک کو تھانے کے اندر نہیں جانے دیاگیا، نہ ہی ملاقات کرنے دی گئی۔محمد زبیر نے بتایا کہ کیپٹین (ر) صفدر کو دروازے توڑ کر گرفتار کیا گیا، ہم سیاسی لوگ ہے، سیاسی طور پر جواب دیں گے، وفاقی حکومت اوچھے ہتکھنڈے استعمال کررہی ہے۔انہوں نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیا قائد اعظم کے خلاف نعرے لگائے تھے کہ مقدمہ کردیا گیا، محترمہ فاطمہ جناح زندہ باد کے نعرے پر توہین کیسے ہو گئی؟سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے یہ بھی کہا کہ ہماری پہلی ترجیح کیپٹن صفدر کی ضمانت ہے، مقدمے کے محرکات سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کیپٹن(ر) صفدر کی جانب سے مزار قائد پر نعرے لگانے کا معاملہ بہت پیچھےرہ گیا ہے، مقدمےمیں نہ جانے کیوں خطرناک دفعہ شامل کی گئی ہیں محمد زبیر نے کہا کہ اگر ایک گھنٹے میں کیپٹن(ر) صفدر سے ملاقات نہ کرائی گئی تو سیاسی رد عمل دیں گے، ہم ایک گھنٹے میں تمام تفصیلات بتائیں گے کہ کیا واقعہ ہوا۔خیال رہے کہ آج صبح کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو مزار قائد کے تقدس کی پامالی کے مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.