استعفوں کی نوبت آئی تو نوز شریف کے کون کون سے قریبی ارکان اسمبلی ساتھ چھوڑ جائیں گے؟ تحریک انصاف نے (ن) لیگ کے اندر کی سیاست بے نقاب کر دی

سیالکوٹ (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ استعفوں کی نوبت آئی تو خواجہ آصف پارٹی کا ساتھ نہیں دیں گے، اسمبلیوں سے استعفے دینا آسان کام نہیں، زیادہ سے زیادہ 18 سے 20 ن لیگی ارکان استعفی دیں گے، یہ تو اسی دن استعفے دینے لگے تھے

، زرداری نے ان کو استعفے دینے سے روک دیا۔انہوں نے آج سیالکوٹ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہم مہنگائی اور معیشت دونوں کی بات کرتے ہیں، ہم آمدن بڑھا کر اخراجات کم کریں گے تو صنعت اور معیشت ترقی کرے گی۔ہمارا مسئلہ یہ رہا ہے کہ ہم نے پاکستان امپورٹ انڈسٹری بنادیا ہے، ہر چیز ہم امپورٹ کررہے ہیں۔ کوئی چیز ہم اپنی نہیں بنا رہے، ہم نے میڈ ان پاکستان کا پروگرام دیا ، کورونا آیا تو ہم کچھ نہیں بنارہے جبکہ ہم نے ماسک سے لے کر وینٹی لیٹر بنائے۔فواد چودھری نے کہا کہ جب بھی معیشت کھڑی ہونے لگتی ہے تو پاکستان کے دشمن سرگرم ہوجاتے ہیں، اپوزیشن کی تحریک کا کیا اخلاقی جواز ہے؟ ابو بچاؤ مہم کے بعد انتشار پھیلاؤ مہم شروع کردی گئی ہے۔اپوزیشن کی تحریک کا اخلاقی یا سیاسی جواز نہیں ہے، آپ نے الیکشن لڑا، آپ الیکشن ہار گئے اب پانچ سال انتظار کریں۔اگر آپ انتظار نہیں کرسکتے کیونکہ آپ جیلوں میں جارہے ہیں۔ اس تحریک کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ فیٹف کے مسئلے پر بھی اپوزیشن نے کہاکہ تب ووٹ دیں گے جب نیب قوانین کی 37 میں 34 شقیں منظورکی جائیں۔ اگر ہم احتساب کے عمل سے پیچھے ہٹ جائیں تو ہمارا ووٹر ہمارا گریبان پکڑے گا۔اس تحریک کا آئین و قانون سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مریم نواز ، نوازشریف کا آئین اور جمہوریت سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا کیپٹن صفدر کا فوج سے تعلق ہے۔ان کا زور اپنے آٹھ کیسز پر ہے، نوازشریف خود لندن میں بیٹھے ہوئے ہیں

، اگر مریم نوازاتنی عزیز ہے تو پیسے بھی ان کے نام کردیں، پیسے سارے بیٹوں کے نام رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف باہر بیٹھ کر کیسے کارکنان کو کہہ رہے ہیں کہ تحریک میں شامل ہوجائیں۔نوازشریف کے لندن میں کھانوں کا بل عوام دے رہے ہیں۔ ہماری آفر ہے کہ پلی بارگین کرلیں۔ ہمیں آپ کو جیلوں میں رکھنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ میں تمام سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیا ہے کہ اللہ نے بڑی مہربانی کی ہے کہ پاکستان میں کورونا زیادہ نہیں پھیلا، اب ہمیں بے وقوفی نہیں کرنی چاہیے، یہ نا ہوں کہ جیسے لندن اور امریکا میں واپس آیا ہے۔بہتر یہ ہوگا کہ ہم بچ جائیں۔ میں سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ 3مہینے کیلئے سیاسی سرگرمیاں معطل کردیں، اور فروری میں دوبارہ شروع کردیں۔جن ممالک میں سردی ہوئی ہے وہاں کورونا بڑی شدت سے واپس آیا ہے۔ فواد چودھری نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پولیس اہلکاروں کیلئے خصوصی اردوسافٹ ویئر بنائیں گے۔ٹیکنالوجی کی مدد سے ہی ملک آگے جاسکتا ہے۔پی ٹی اے کی جانب سے ٹک ٹاک پر پابندی سے ملک میں ٹیکنالوجی کا بزنس کا بیٹھ جائے گا۔بھارت ٹیکنالوجی بزنس میں کہاں سے کہاں چلا گیا ہے، پاکستان میں ٹیکنالوجی کے بزنس پر پابندی لگانے سے فائدے کی بجائے نقصان ہوگا۔ٹک ٹاک اور دوسری انٹرنیشنل کمپنیز پر پابندی کے حق میں نہیں ہوں۔ بھارت ٹیکنالوجی بزنس میں کہاں سے کہاں چلا گیا ہے، پاکستان میں ٹیکنالوجی کے بزنس پر پابندی لگانے سے فائدے کی بجائے نقصان ہوگا۔ٹک ٹاک اور دوسری انٹرنیشنل کمپنیز پر پابندی کے حق میں نہیں ہوں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *