ہر جمعرات کو یہ کام کیا جاتا ہے

اُس گھر کی حفاظت ملائکہ کرتے ہیں جہاں ہر جمعرات کو یہ کام کیا جاتا ہے
خیرو برکت کی نیت سے انسان بہت سے اچھے کام کرنے کی کوشش کرتا ہے ،اسکا اجر یقیناً اسکو ملتا ہے .اس سلسلہ میں اگر کوئی اپنے گھر میں ہر جمعرات کو نماز عصرکے بعد درود خضری ایک سو بار اور ایک سو بار آیت کریمہ پڑھ کر دعائے حاجت کرے گا

تو اللہ کی بارگاہ سے اس گھراور ذاکرین کی حفاظت کے لئے ملائکہ تعینات ہوں گے،خیروبرکت ہوتی ہوئی نظر آئے گی اور فی زمانہ انسان جن تکالیف میں مبتلا ہو کر پریشان نظر آتا ہے ،رفع ہوجائیں گی.اس سے پہلے گھر میں اگربتیاں لازمی جلائیں یا لوبان کو کسی برتن میں ڈال کر ان کو جلادیں تاکہ وہ جلتے مہکتے رہیں.ہمارے مسلمانوں کے گھروں میں چونکہ بابرکت محافل بہت کم ہوتی ہیں اسکی جگہ ٹی وی کھلی آواز میں ناچ گھانے اور بے حیائی پر مبنی شو،غل غپاڑہ، ڈرامے دکھاتا رہتا ہے اس لئے گھر سے برکت اٹھ جاتی اور شیاطین ڈیرہ جمالیتے ہیں .ایسی محافل سے انشاءاللہ رحمت الٰہی کا ظہور ہوگا. دوسری جانب مجھے چار طرح کے غافلوں پر تعجب ہے جو چار مسائل کے حل سے غافل ہیں۔ 1 – مجھے تعجب ہے اس پر جو “غم” سے آزمایا گیا اور پھر بھی اس آیت سے غفلت کرتا ہے : ۞ لا إلهَ إلاّ أنتَ سُبحانكَ إني كنتُ من الظالمين ۞ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بیشک میں ﻇالموں میں ہو گیا (الأنبياء 21:87) کیا تم نہیں جانتے کہ اس دعا پر اللہ نے کیا جواب دیا؟الله سبحانہ و تعالٰی نے اس کے بعد فرمایا؛ ۞ فاستجبنا لهُ ونجيناهُ من الغم۔۔۔۔۔۔ ۞ تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیا کرتے ہیں. 2- مجھے تعجب ہے اس پر جو “بیماری” سے آزمایا گیا، کہ وہ کیسے اس دعا سے غفلت کرتا ہے : ۞ ربي إني مسّنيَ الضرُ وأنتَ أرحمُ الراحمين ۞ اے میرے رب! مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیاده رحم کرنے واﻻ ہے(الأنبياء 21:83) کیا تم نہیں جانتے کہ اس دعا کے بارے میں اللہ نے کیا فرمایا؟ الله نے فرمایا ہے؛ ۞ فا ستجبنا له وكشفنا ما به من ضر ۞تو ہم نے اس کی سن لی اور جو دکھ اسے تھا وہ دور کر دیا۔ 3- مجھے تعجب ہے اس پر جو “خوف” سے آزمایا گیا، کہ وہ کیسے اس آیت سے غفلت کرتا ہے : ۞ حسبنا الله ونعم الوكيل ۞ ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے (سورة آل عمران 3:173)

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.