اچھا تو یہ بات تھی ۔۔۔!!! ن لیگی رہنماؤں کیخلاف مقدمہ کر کے پھر خود ہی حکومتی سطح پر ایف آئی آر کی مخالفت کیوں کر دی گئی ؟ بڑی گیم کھل کر سامنے آ گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کیخلاف بغاوت کا مقدمہ پرنسپل سیکرٹری وزیراعظم کی منظوری سے درج کیا گیا، جب مقدمے میں وزیراعظم آزاد کشمیر اورتین سابق جرنیلوں کا ناموں احساس ہوا، تو پھر ایف آئی آرکی مخالفت کردی گئی۔ سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ

مسلم لیگ ن کے رہنماؤں پر بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کیلئے جب ایس ایچ او کے پاس درخواست گئی تو ایس ایچ او نے ڈی ایس پی سے پوچھا، ڈی ایس پی نے آئی جی سے رابطہ کیا، آئی جی نے وزیراعلیٰ پنجاب اور وہاں سے وزیراعظم آفس رابطہ کیا گیا۔جس پر بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کی پرنسپل سیکرٹری وزیراعظم نے منظوری دی۔ ان کو احساس نہیں تھا کہ کہ کس کس کا نام آرہا ہے، جب آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا نام آگیا تو اسٹیبلشمنٹ بھی جاگ گئی، اگر ان کا نام نہ ہوتا تو جتنے مرضی لوگوں کا نام دے دیتے۔عمران خان کہتے مجھے اس کا پتا نہیں تھا، ہوسکتا ہے عمران خان کو نہ بتایا گیا ہو، یا پھر صبح بتا دیا گیا ہو، کہ ایف آئی آر تھی وہ درج ہوگئی ہے۔انہوں نے اپوزیشن کے جلسے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا کہ ہم جلسوں کو نہیں روکیں گے، کیونکہ ہم اظہار رائے کی آزادی کی بات کرتے ہیں۔ اگر نہ ہونے دیا تو حکومتی کمزوری کا تاثر جائے گا۔لیکن گرفتاریاں اتنی کریں گے ، کنٹینرز اتنے روکیں گے کہ ہم پر الزام نہ آئے کہ ہم نے ہونے نہیں دیا ۔اپوزیشن کو اجازت بھی دیں گے اور رکاوٹیں بھی ڈالیں گے۔جب تقاریر ہوں گی تو ساتھ ساتھ مقدمات بھی درج کریں گے۔کوشش ہے کہ تصادم نہ ہو، اگر تصادم ہوا تو اپوزیشن کے فائدے میں جائے گا۔باہر سے جو لوگ آئیں گے، ان کی بسیں، گاڑیاں روکی جائیں گی پھر چھوڑ دی جائیں گی۔یہ سب کچھ تنگ کرنے کیلئے کیا جائے گا۔اس جلسے کے بعد اگلے جلسے کی حکومت حکمت عملی طے کریں گے۔ میڈیا کو پہلے جلسے پر مینیج کیا جائے گا، جبکہ بعد میں پابندیاں بھی لگائی جاسکتی ہیں۔ حکومت آئینی طریقے سے اسٹیبلشمنٹ کو آخرمیں لانے کی کوشش کرے گی ، جب لانگ مارچ کی نوبت آئے گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *