بریکنگ نیوز: گردن کا سریا نکلنے کا وقت ؛ نواز شریف تو اشتہاری مگر سلمان شہباز کے حوالے سے کون سا خصوصی حکم جاری ہو گیا ؟ تازہ ترین خبر

لاہور(ویب ڈیسک)غیر قانونی پلاٹس الاٹمنٹ کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کا نوٹس آویزاں کر دیاگیا،احتساب عدالت لاہور کے جج اسد علی نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کا عدالتی نوٹس جاری کیا ۔تفتیشی افسر نے نواز شریف کے اشتہاری ہونے کا نوٹس عدالت کے باہر اور ان کی رہائش گاہ

پر آویزاں کیا، تفتیشی افسر وزرات خارجہ کے ذریعے اشتہاری قرار دینے کا نوٹس لندن بھی ارسال کرے گا۔اشتہاری نوٹس میں کہا گیا کہ نواز شریف 30 دن میں عدالت میں پیش ہوں ورنہ ان کو اشتہاری قرار دیا جائے گا اور قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب منی لانڈرنگ ریفرنس میں سلمان شہباز کو مفرور قرار دینے کیلئے اشتہارات عدالتی احاطے ، ملزم کی پاکستان اور بیرون ملک رہائشگاہوں پر چسپاں کر دیئے گئے ، احتساب عدالت لاہور کے جج جواد الحسن نے سلمان شہباز کو مفرورقرار دینے کیلئے اشتہار جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ملزم ٹرائل کا سامنا نہ کرنے کیلئے جان بوجھ کر روپوش ہے ، ضابطہ فوجداری کی دفعہ 87 کے تحت سلمان شہباز کے اشتہار جاری کئے گئے ، ملزم کو 13 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہو کر اپنے دفاع کا ایک اور موقع دیا جا رہا ہے ، ڈی جی نیب آئندہ سماعت پر ملزم کو مفرور قرار جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نےاپوزیشن کے جلسوں کے حوالے سے اسد عمر نے حکومتی پالیسی واضح کر دی اور کہا ہمارے سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کے جلسے نہ کئے جائیں۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا حکومت عوام کی زندگی بہترکرنے کیلئے اپنے کام میں لگی ہوئی ہے، اپوزیشن قانون کےدائرے میں رہ کرجو مرضی کرے۔اسدعمر کا کہنا تھا کہ ہماری قانون کی پاسداری کی پالیسی ہے، یہ نہیں ہونا چاہیے جمہوریت کے نام پر قانون توڑیں، ہماری جمہوری پارٹی ہے،عثمان بزدار کا قلعہ مضبوط ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اتنا بندہ اکھٹا کرتا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی نے نہیں دیکھا، ان کو اس وقت کے حکمران روک ہی نہیں سکتے تھے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کورونا کے معاملے پر صوبوں کے تعاون سے کام کر رہے ہیں، این سی او سی میں کورونا کے معاملے پر این سی سی کی میٹنگ بلا کر ضابطہ اخلاق طے کرنے کا فیصلہ ہوا ہے، ہمارے سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کے جلسے نہ کیئے جائیں۔انھوں نے کہا کورونا میں ہر چیز کیلئے ضابطہ اخلاق پہلے بنایا گیا ہے، بڑے اجتماعات کے حوالے سے ایس او پیز بھی طے ہونے چاہیں، قومی رابطہ کمیٹی میں معاملہ زیر غور آئے گا۔یاد رہے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے ملک بھر میں کرونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر نئی گائیڈ لائنز جاری کیں تھیں، گائیڈ لائنز میں کہا گیا تھا کہ عوامی اجتماعات کرونا میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں لہذا ایسے پروگراموں کے انعقاد سے ہر ممکن گریز کیا جائے، بڑے اجتماعات کےانعقادکوروکنے پرغور کیا جارہا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *