بریکنگ نیوز: حافظ حمد اللہ کی قسمت کا فیصلہ ہوگیا۔۔!! دوہری شہریت کے متعلق عدالت سے بڑی خبر آگئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ کیا حافظ حمد اللہ کی شہریت پر شک کیا جا سکتا ہے، کیا ان کا بیٹا ابھی ملٹری اکیڈمی سے پاس آؤٹ نہیں ہوا؟۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے مرکزی رہنما سینیٹر حافظ حمداللہ کی شہریت

منسوخی کے نادرا کے حکم کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے نادرا کے کنڈکٹ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حافظ حمد اللہ کا بیٹا تو ابھی ملٹری اکیڈمی سے پاس آؤٹ نہیں ہوا؟ کیا ان کی شہریت پر شک کیا جا سکتا ہے؟ حافظ حمد اللہ جس کی پراپرٹیز یہاں ہیں اور جو پارلیمنٹرین ہے کیسے آپ اس کی شہریت منسوخ کر سکتے ہیں؟ یہ عدالت اس طرح شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دے گی۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ نے نادرا وکیل سے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت آپ لوگوں کی شہریت پر سوال اٹھاتے ہیں؟، اتنا عرصہ ہوا روزانہ کی بنیاد پر پٹیشنز دائر ہورہی ہیں، اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے طے کریں گے۔ نادرا وکیل نے جواب دیا کہ ایجنسیز سے رپورٹ آنے پر کسی شہری کے خلاف کوئی ایکشن لیا جاتا ہے، سیکشن 18 کے تحت شہری کو ایک شوکاز نوٹس کرتے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے تو اگر اس کورٹ کا رجسٹرار آپ کو کچھ بھیج دے تو کیا آپ کسی کی شہریت منسوخ کر دیں؟، حمد اللہ صاحب کا کارڈ آپ نے کیوں منسوخ کیا،وہ تو پارلیمنٹرین بھی ہیں، یہ تو ایلیٹ کلاس ہے عام لوگوں کے ساتھ پتہ نہیں آپ کیا کرتے ہوں گے، آپ کو پتہ ہے شناختی کارڈ منسوخ کرنے کے کیا اثرات ہوتے ہیں، کیا آپ آنکھیں بند کرکے یہ کرتے ہیں؟ آپ اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر رہے ہیں، دو سال سے آپ کو بتا رہے ہیں نادرا کو اس قسم کا کوئی اختیار نہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حافظ حمد اللہ کے شہریت منسوخی کیس پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *