بریکنگ نیوز:آصف زرداری کی گرفتاری۔۔۔۔۔۔۔۔اپوزیشن کے جلسے سے ایک روز قبل ملکی سیاست میں ہلچل مچا دینے والی خبر۔۔۔۔۔۔۔

لاہور(ویب ڈیسک)جعلی اکائونٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کے وارںٹ گرفتاری جاری کر دیئےگئے ہیں ۔نیب نے 8 ارب روپے کی مشکوک بینک ٹرانزیکشنز کیس میں آصف علی زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے۔نجیچینل کے مطابق نیب نے جعلی اکائونٹس کیس سے منسلک 8 ارب روپے کے مشکوک ٹرانزیکشنز کیس میں

سابق صدر آصف علی زرداری کے وارنٹس گرفتاری جاری کردیئے ہیں۔ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ان کے وارنٹ گرفتاری پر دستخط کر دیئے ہیں۔دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ آج آصف زرداری کی عبوری درخواست ضمانت پر سماعت کرے گا، عدالت نے آصف زرداری کو آج تک عبوری ضمانت دے رکھی ہے، عدالت نے آصف زرداری کے وکیل اور نیب سے دلائل طلب کر رکھے ہیں، نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تحریری جواب داخل کرادیا ہے ،جس میں کہا گیا ہے کہ جعلی اکائونٹس کیس میں آصف زرداری نیب کو تفتیش کے لیے مطلوب ہیں۔یاد رہے واضح رہے کہ جعلی اکائونٹس کیس، جس کو بعد ازاں ’میگا منی لانڈرنگ‘ کا نام دیا گیا تھا، کراچی کی بینکنگ کورٹ میں زیر سماعت تھا اور بعد میں سپریم کورٹ نے اس مقدمے کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کر دیا تھا اور نیب کو اس معاملے کی تحقیقات کر کے ریفرنس دائر کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔احتساب عدالت میں دائر کیے گئے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں استغاثہ کے 69 گواہان ہیں جن میں سے تین گواہوں کو 13 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔سابق صدر آصف علی زرداری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں منی لانڈرنگ سمیت دیگر یفرنس میں بریت کی درخواستیں دائر کی تھیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل احتساب عدالت آصف علی زرداری کی بریت کی درخواستیں مسترد کر چکی ہے۔احتساب عدالت میں سماعت کے بعد جب صحافیوں نے سابق صدر آصف علی زرداری سے سوال کیا کہ ان پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے تو اس کے بارے میں آپ کیا کہیں گے تو سابق صدر نے اس کا جواب ایک گانے کے بول کے ساتھ دیا کہ ’یہ تو وہی جگہ ہے، گزرے تھے ہم جہاں سے۔‘جب سابق صدر سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان پیپلز پارٹی اے پی سی (حزب اختلاف کی آل پارٹیز کانفرنس) میں ہونے والے فیصلوں میں پاکستان مسلم لیگ نواز کا ساتھ دے گی تو اُنھوں نے صرف ’انشااللہ‘ کہنے پر ہی اکتفا کیا۔سماعت کے موقع پر جوڈیشل کمپلکس کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جس کی وجہ سے وکلا اور صحافیوں کو اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *