کیا آپ جانتے ہیں معروف بالی وڈ اداکار جونی لیور کی ایک نوجوان بیٹی بھی ہے ، وہ کہاں ہوتی ہے اور کیا کام کرتی ہے؟ ایک خصوصی رپورٹ

لندن (ویب ڈیسک) بالی وڈ کے مشہور اداکار جانی لیور کا شمار ان اداکاروں میں ہوتا جنھوں نے مزاحیہ کردار ادا کرکے انڈسٹری میں اپنی ایک خاص شناخت قائم کی ہے۔ ان کا شمار بالی وڈ کے مشہور کامیڈین میں ہوتا ہے اور بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ جانی لیور نے ایک

جتنے لمبے وقت تک اور جتنے مختلف کردار ادا کیے ہیں وہ بہت کم کامیڈین ہی کرتے ہیں۔نامور صحافی مدھو پاک کی بی بی سی کے لیے ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔اب جانی لیور کی بیٹی جیمی لیور اپنے والد کے نقش و قدم پر چل رہی ہیں۔ ان کی شناخت ایک سٹینڈ اپ کامیڈین کے طور پر ہے اور بہت کم وقت میں وہ بے حد مقبول ہوچکی ہیں۔جیمی لیور سنہ 2015 میں کامیڈی کے کنگ کہے جانے والے ٹی وی میزبان کپل شرما کی فلم ‘کس کس سے پیار کروں ‘ اور اس کے بعد فلم ‘ہا‎ؤس فل’ میں نظر آئی تھیں۔بالی وڈ میں انہوں نے ابھی تک دو فلموں میں ادکاری کی ہے لیکن سٹینڈ اپ کامیڈی میں وہ اپنی منفرد شناخت اور مقام حاصل کرنے میں بے حد کامیاب رہی ہیں۔والد اور بیٹی کی یہ جوڑی نہ صرف انڈیا میں نہیں بلکہ بیرونی ممالک میں کئی سٹیج شو کرچکی ہے اور بے حد کامیاب بھی رہے ہیں۔اس بارے میں بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے جیمی نے بتایا، ” پاپا جب گھر پر رہتے ہیں تو وہ بے حد ہی سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ اپنے بچپن اور جدو جہد کے دنوں کی کہانیاں سناتے ہیں لیکن جب ان کے ساتھ کوئی شو کرتی ہوں مجھے بہت ڈر لگتا ہے”۔” سٹیج پر وہ میرے والد نہیں بلکہ میرے باس ہوتے ہیں اور جب وہ میرے باس ہوتے ہیں تو بہت سختی سے پیش آتے ہیں۔ انہیں کام میں کوئی لاہ پرواہی پسند نہیں ہے۔ میرے والد نے اپنے منفرد شناخت قائم کرنے میں کئی برسوں تک محنت کی ہے۔ سٹیج پر جب میں ان کے ساتھ شو کرتی ہوں

مجھے یہ خوف رہتا ہے کہ مجھ سے کوئی غلطی نہ ہو۔ اس لیے میں ان کے ساتھ سٹیج پر جانے سے پہلے دوگنی محنت کرتی ہوں”۔اس طرح کے شوز کی تیاری کے بارے میں وہ مزید بتاتی ہیں، ” پاپا ایک کونے میں بیٹھ کر مجھ سے میری لائنز کے بارے میں پوچھتے ہیں اور جب میں ان کو وہ لائنز سنارہی ہوتی ہوں تو ان کے چہرے پر کوئی جزبات نہیں ہوتے۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنی لائنز کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ پورے دل سے۔ کئی بار تو میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ آج تک میں جو کچھ بھی سیکھ پائی ہوں۔ یہ سب میں نے انہیں سے سیکھ پائی ہوں”ممبئی سے ماس کمیونیکشن اور پھر لندن کے ویسٹ منسٹر یونیورسٹی سے مارکیٹنگ کمیونیکشن میں ماسٹرز کی ڈیگری حاصل کرنے کے بعد سنہ 2012 میں انہوں نے لندن کی ایک کمپنی میں سیلز ایکزاکیٹو کے طور پر ملازمت بھی کی ہے لیکن ایک دن سب کچھ چھوڑ کر واپس انڈیا آئی ہے۔اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سٹینڈ اپ کامیڈی کرنے کا خیال کیسے آیا؟ اس بارے میں جیمی بتاتی ہیں، ” بچپن سے ہی مجھے اپنے دوستوں، استاذہ، اوراپنی آنٹیوں کی نقل اتارنا پسند تھا۔ میرے والدین میرے شوخ کے بارے میں اچھی طرح واقف تھے۔ وہ آج بھی کہتے ہیں کہ انہیں معلوم تھا کہ میرے اندر بھی یہی جراثیم تھے لیکن انہوں نے کبھی بتایا نہیں کیونکہ ان کی خواہش تھی کہ پہلے میں اور میرا بھائی اپنی تعلیم مکمل کریں اور ملازمت کریں اور اس کے بعد اپنے شوق کو پورا کریں”۔

تخلیقی کام کرنے کی خواہش کے بارے میں جیمی بتاتی ہیں، ”جب میں لندن میں تھیں تو میں اکثر یہی سوچتی کہ میں ایسا کیا کام کروں جس سے مجھے خوشی حاصل ہو، میں لندن میں خوش نہیں تھیں۔ مجھے اکثر اوقعات یہ احساس ہوتا تھا کہ میں کوئی کریئیٹو یا تخلیقی کام کروں۔ اس لیے میں سب کچھ چھوڑ کر واپس ممبئی آگئی۔ میں نے جب پاپا کو اپنی دل کی بات بتائی تو انہوں نے کہا کہ اگر تم نے ارادہ کرہ لیا ہے تو خود اپنی راہ تلاش کروں۔ میں تمہاری مدد نہیں کروں گا”اپنے والد کی بات سن کر جیمی کتنی افسردہ ہوئیں، اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا، ” میرے والد کا میری مدد نہ کرنے کے پیچھے جو وجہ تھی وہ ان کی اپنی جدوجہد تھی۔ وہ اکثر یہ بتاتے ہیں کہ ابتدائی دنوں میں وہ چھوٹے موٹے سٹیج شوز کرتے تھے۔ پھر کلیان اور آنند جی نے ان کی کامیڈی کو دیکھا اور انہیں ایک سٹیج شو کرنے کا موقع دیا۔ اور پھرایک کسی فلم میں ایک ہدایت کار کو ایسا اداکار درکار تھا جو فلم دیکھنے والوں کو ہنسا سکے، اس وقت پھر کلیان جی آنند جی نے پاپا کے نام کی تجویز پیش کی اور اس طرح انہیں فلموں میں بریک ملا”۔جیمی کو بھی اپنے والد کی طرح بالی وڈ میں قدم جمانے کے لیے خود جدوجہد کرنی پڑی۔ اپنےکرئیر کے ابتدائی دور کے بارے میں وہ بتاتی ہیں، ”جب میں نے سٹیج کرنے شروع کیے تھے شو کیا تو وہاں متعدد ایسے لوگ ہوتے تھے جنہوں نے مجھے کہیں نہیں دیکھا تھا۔

انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ میں جانی لیور کی بیٹی ہوں۔ لوگوں نے مجھے سٹیج شوز ، ٹی وی شوز اور پھر میرے یوٹیوب ویڈیوز میں دیکھا تھا۔ پھر میرے بعض ویڈیو وائرل ہوگئے۔ اس کے بعد میں نے فلموں میں کام کرنا شروع کردیا۔ میں نے نا تو کوئی سفارش اور نہ ہی کسی کو فون کرکے مدد مانگی ۔ میں نے آسانی سے دھیرے دھیرے اپنی راہ پکڑ لی”۔ہم نے بہت سارے مرد مزاحیہ فنکار دیکھے ہیں جو دوسرے فن کاروں کی نقالی کرتے ہیں۔ لیکن اسی خواتین کی تعداد بہت کم ہے جنہوں نے اس شعبے میں کامیابی حاصل کی ہو۔ جیمی ایک ایسی خاتون مزاحیہ فن کار ہیں جو نہ صرف دوسرے فن کاروں کی نقالی کرتی ہیں بلکہ ان کی اداکاری کی بھی نقالی بھی خوب کرتی ہیں۔اپنی اس خوبی کے بارے میں وہ بتاتی ہیں، ’دوسرے اداکاروں کی ہو بہو نقل اتارنے کے لیے بہت پریکٹس کرنی پڑتی ہے۔ دو سے تین ہفتوں تک میں ان کے سارے ویڈیو، ان کی فلمیں، وہ تمام ایوارڈ شوز جس میں انہوں نے شرکت کی ہے ان سبھی ویڈیوز کو دن رات دیکھتی ہوں۔ میرے والد نے یہ بات بہت اچھے سے سمجھائی ہے کہ جن اداکاروں کی نقالی کررہی ہو ان کی روح پر قبضہ کرلوں۔ اگر ان کی روح کو سمجھ گئیں تو تم ان کی طرح بول سکتی ہو۔‘جیمی نے متعدد سٹیج شو اور ایوارڈ شو میں بالی وڈ کے فن کاروں کی نقالی کی ہے لیکن کیا کبھی کسی نے اعتراض کا اظہار کیا ہے،

اس بارے میں وہ بتاتی ہیں، ”فن کاروں کی نقالی کرتے وقت مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔ یہ سوچ کر کہیں رات کو کسی کا فون نہ آجائے کہ تم ہماری ممکری کیوں کررہی ہو؟ ایسا کرنے سے پہلے میں اس بات کا دھیان ضرور رکھتی ہوں کہ نقالی کرتے وقت میں کسی کے دل کو چوٹ نہ پہنچاؤں اور نہ ہی کسی کی نجی زندگی پر تبصرہ کروں اور نہ کسی پربغیر کسی وجہ کے اٹیک کروں”۔جیمی مزید بتاتی ہیں، ” پاپا نے ہمیشہ یہ بات سمجھائی ہے کہ جب بھی کسی کی نقالی کرو تو اس طرح کرو کہ اس شخص کو برا نہ لگے بلکہ اسے تمہارا کام پسند آئے۔ ہمارے انڈین مداح بہت حساس ہیں۔ اگر آپ کسی فن کار کی غلط نقالی کرو گے یا ان کو بے وجہ نشانہ بناؤں گے تو وہ ناراض ہوسکتے ہیں۔ اس لیے جو کام کروں مکمل ذمہ داری کے ساتھ کرو”۔جیمی نے ایک مزاحیہ فن کار کے طور پر اپنی منفرد شناخت قائم کرلی ہی لیکن اپنے والد یعنی جانی لیور کی برابر شہرت حاصل کرنے کے لیے برسوں محنت کرنی ہوگی اور لوگ ان کو جیمی لیور کے طور پر قبول کریں نہ کہ جانی لیور کی بیٹی کے طور پر، یہ ان کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.