4،2مہینے کیلئے جیل جانا پڑے گا تو چلے جائیں۔۔۔!!!نواز شریف نے صحافیوں کو ناقابل یقین مشورہ دے دیا

لندن (ویب ڈیسک) اردو ٹی وی سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ اب قوم نے اپنا فیصلہ صادر کرنا ہے اور جب قوم فیصلہ سنائے گی تو سب فیصلے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ انہوں نے میڈیا سے کہا کہ وہ اٹھے، اگر 2، 4 مہینے کیلئے جیل جانا بھی پڑے تو چلے جائیں۔لندن میں پاکستانی صحافیوں

سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے خود کو اشتہاری قرار دینے اور ڈھول پیٹنے کے حوالے سے کہا کہ جو کچھ ہورہا ہے کیا قوم اس سے اتفاق کرتی ہے؟ اب تو قوم نے فیصلہ صادر کرنا ہے، سارے فیصلے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے، قوم اپنا فیصلہ صادر کرکے رہے گی۔میڈیا پر پابندیوں کے حوالے سے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ میڈیا پر کچھ تو پابندیاں لگ رہی ہیں اور کچھ میڈیا خود اپنے آپ پر پابندیاں لگا رہا ہے۔ میڈیا بھی اٹھے، گھٹنے نہ ٹیکے، ہم تو اٹھ گئے ہیں، عوام کو بھی اٹھنے کیلئے کہا ہے، میڈیا بھی اٹھے، کیا ہوجائے گا اگر 2 سے 4 مہینے کیلئے جیل جانا بھی پڑ جائے، اس سے میڈیا ہمیشہ کیلئے آزاد ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ قوم کا مینڈیٹ چوری کرکے ظلم کیا گیا ہے، میرا ووٹ ان کے اور ان کا ووٹ میرے باکس میں ڈال دیا گیا، جیتا میں تھا ڈکلیئر ان کو کردیا گیا۔ جو میں باتیں کر رہا ہوں وہ ٹی وی پر دکھائی نہیں جاسکتیں، اگر بوجھ برداشت کرسکتے ہیں تو میں اور بھی باتیں کرسکتا ہوں۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف نے پارٹی کے تمام ارکان قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی،سینیٹرز اور ٹکٹ ہولڈرز کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو بہت دیر سے سیاست کے میدان میں ہیں اور پاکستان کے عوام کی خدمت کا فریضہ اٹھایا ہواہے ، آپ کے کندھوں پر ذمہ داری ہے ، آپ بھی تو سوچتے ہوں گے کہ پاکستان کے اندر کیا ہوتاہے کہ کبھی یہاں پر ایک نظام ہوتاہے اور پھر اسے ختم کر کے دوسرا نظام آجاتاہے ، اس کے بعد تیسرا آجاتاہے ، یہ پاکستان کا آئین ہے جس کو آپ کئی مرتبہ پڑھ چکے ہوں گے ،میں بھی پڑھ چکا ہوں ، اس آئین کے مطابق نا پارلیمنٹ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ ہی عدلیہ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ پاکستان کے کئی دوسرے اداروں کو چلنے دیا جاتاہے ، ایسی طاقتیں جو اس پر مکمل طور پر حاوی ہو جاتی ہیں

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *