وہی ہوا جس کا ڈر تھا ۔۔۔سوشل میڈیا کمپنیز کو ’لگام‘ ڈالنے کافیصلہ،وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا کے حوالے سے بڑا قدم اٹھا لیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اردو ٹی وی پاکستان میں سوشل میڈیا کمپنیز کو ’لگام‘ ڈالنے کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں۔ کابینہ نے پی ٹی اے کے تیار کردہ نئے رولز کی منظوری دے دی۔نجی ٹی وی سماء کے مطابق پی ٹی اے کی سفارشات کی منظوری کے بارے میں وزارت آئی ٹی آئندہ چند روز میں نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔

نئے رولز کے مطابق دفاع پاکستان، اخلاق باختہ ، فحش ، مذہب ، توہین رسالت ، حکومتی احکامات کے خلاف مواد قابل سزا جرم تصور ہوگا، پبلک آرڈر کے بارے میں غلط معلومات بھی جرم تصور ہوں گی۔کسی دوسرے شخص سے متعلق منفی رجحان پیدا کرنے یا دوسرے شخص کی نقل اتارنے والے مواد پر پابندی ہوگی۔ انتہا پسندی، دہشتگردی، تشدد کی لائیو سٹریمنگ پر پابندی ہوگی، بچوں کو متاثر کرنے والے مواد پر بھی پابندی ہوگی۔ سوشل میڈیا کمپنیاں ملک کے وقار ، سلامتی و دفاع کے خلاف مواد کو ہٹانے کی پابند ہوں گی۔نئے رولز کے مطابق ایسی تمام کمپنیاں جن کے صارفین کی تعداد 5 لاکھ سے زائد ہے وہ خود کو پی ٹی اے کے پاس رجسٹرڈ کرانے کی پابند ہوں گی۔ یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک، ٹوئٹر اور گوگل پلس سمیت سوشل میڈیا کمپنیاں ان نئے رولز کو ماننے اور 9 ماہ کے اندر پاکستان میں دفاتر قائم کرنے کی پابند ہوں گی۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف نے پارٹی کے تمام ارکان قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی،سینیٹرز اور ٹکٹ ہولڈرز کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو بہت دیر سے سیاست کے میدان میں ہیں اور پاکستان کے عوام کی خدمت کا فریضہ اٹھایا ہواہے ، آپ کے کندھوں پر ذمہ داری ہے ، آپ بھی تو سوچتے ہوں گے کہ پاکستان کے اندر کیا ہوتاہے کہ کبھی یہاں پر ایک نظام ہوتاہے اور پھر اسے ختم کر کے دوسرا نظام آجاتاہے ، اس کے بعد تیسرا آجاتاہے ، یہ پاکستان کا آئین ہے جس کو آپ کئی مرتبہ پڑھ چکے ہوں گے ،میں بھی پڑھ چکا ہوں ، اس آئین کے مطابق نا پارلیمنٹ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ ہی عدلیہ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ پاکستان کے کئی دوسرے اداروں کو چلنے دیا جاتاہے ، ایسی طاقتیں جو اس پر مکمل طور پر حاوی ہو جاتی ہیں، زیادہ دور نہ جائیں 2017 میں یہ پاکستان کی خدمت کا ہم اپنا فریضہ انجام دے رہے تھے ،میں ہی اس فریضے کی سربراہی کر رہا تھا ، پاکستان کا وزیراعظم تھا ، یکا یک کیا ہو گیا ، کیا ہوا کہ مجھے بالکل مکھن سے بال کی طرح نکال کر پھینک دیا گیا ، کچھ آپ کو سمجھ آتی ہے، تو آتی ہو گی، مجھے نہیں آتی ،یہ حقیقت ہے ،پھر ایک وزیراعظم کو آپ نکال رہے ہیں ، کوئی معقول وجہ ہو تو میں بھی کہوں کے معقول وجہ تھی ، اگر میرے ساتھ یہ سلوک ہواہے تو اس کے پیچھے کو ئی معقول وجہ ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ، میں کہتا کہ اس میں میرا بھی قصور ہے تو یہ فیصلہ میرے خلاف آیاہے تو ٹھیک ہے ، مجھے اپنے کیے کی سزا ملی ہے ، لیکن کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایک شخص کو اس لیے وزارت عظمیٰ سے نکال باہر کریں کہ اس نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، اور اس کے پاس ایک اقامہ تھا ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *