وزراء اور معاونین خصوصی کی آپس میں چپقلش ۔۔۔ وزیرا عظم عمران خان آجکل کونسی بڑی پریشانی کا شکار ہیں ؟ بڑا دعویٰ کر دیا گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک)پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ وزراء اور معاونین میں پائی جانے والی کھلبلی عمران خان کی پریشانی ظاہر کرتی ہے، سلیکٹڈ وزیراعظم چاہے پورے ملک کو جیل بھی بنائیں مگر انہیں اقتدار چھوڑنا ہی پڑے گا۔نجی ٹی وی کے مطابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے

کہا کہ اب عمران خان معافی ناموں کی درخواست لکھ کر جیب میں رکھ لیں کیونکہ ان کا عوامی احتساب شروع ہونے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین عوام سے تنخواہ لیتے ہیں،وہ عوام کا راستہ نہیں روک سکتے اور نہ ہی کٹھ پتلی وزیراعظم کو سہارا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جیالوں نے چار آمروں کو شکست دی ہے، کٹھ پتلی تو ایک دھکے کی مار ہے، ابھی تو پی ڈی ایم کے جلسوں کا شیڈیول آیا ہے، جب یہ جلسے ہوں گے تو سلیکٹڈ وزیراعظم کو دن میں بھی تارے نظر آئیں گے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف نے پارٹی کے تمام ارکان قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی،سینیٹرز اور ٹکٹ ہولڈرز کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو بہت دیر سے سیاست کے میدان میں ہیں اور پاکستان کے عوام کی خدمت کا فریضہ اٹھایا ہواہے ، آپ کے کندھوں پر ذمہ داری ہے ، آپ بھی تو سوچتے ہوں گے کہ پاکستان کے اندر کیا ہوتاہے کہ کبھی یہاں پر ایک نظام ہوتاہے اور پھر اسے ختم کر کے دوسرا نظام آجاتاہے ، اس کے بعد تیسرا آجاتاہے ، یہ پاکستان کا آئین ہے جس کو آپ کئی مرتبہ پڑھ چکے ہوں گے ،میں بھی پڑھ چکا ہوں ، اس آئین کے مطابق نا پارلیمنٹ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ ہی عدلیہ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ پاکستان کے کئی دوسرے اداروں کو چلنے دیا جاتاہے ، ایسی طاقتیں جو اس پر مکمل طور پر حاوی ہو جاتی ہیں، زیادہ دور نہ جائیں 2017 میں یہ پاکستان کی خدمت کا ہم اپنا فریضہ انجام دے رہے تھے ،میں ہی اس فریضے کی سربراہی کر رہا تھا ، پاکستان کا وزیراعظم تھا ، یکا یک کیا ہو گیا ، کیا ہوا کہ مجھے بالکل مکھن سے بال کی طرح نکال کر پھینک دیا گیا ، کچھ آپ کو سمجھ آتی ہے، تو آتی ہو گی، مجھے نہیں آتی ،یہ حقیقت ہے ،پھر ایک وزیراعظم کو آپ نکال رہے ہیں ، کوئی معقول وجہ ہو تو میں بھی کہوں کے معقول وجہ تھی ، اگر میرے ساتھ یہ سلوک ہواہے تو اس کے پیچھے کو ئی معقول وجہ ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ، میں کہتا کہ اس میں میرا بھی قصور ہے تو یہ فیصلہ میرے خلاف آیاہے تو ٹھیک ہے ، مجھے اپنے کیے کی سزا ملی ہے ، لیکن کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایک شخص کو اس لیے وزارت عظمیٰ سے نکال باہر کریں کہ اس نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، اور اس کے پاس ایک اقامہ تھا ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *