پاک فضائیہ موٹروے پر مشقیں کیوں کرتی ہے ؟ بی بی سی کی ایک معلوماتی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان ائر فورس نے بدھ کو اسلام آباد لاہور موٹروے پر مشقیں کی ہیں جسے ’روڈ رنوے آپریشنز‘ کا نام دیا جاتا ہے۔پاکستان میں ایسا ہر سال کیا جاتا ہے اور یہ کرنے کا بنیادی مقصد فضائیہ کے پاس موجود باقاعدہ رن ویز کے علاوہ مناسب ہموار قطعاتِ زمین پر کسی بھی

ہنگامی صورتحال کے نتیجے میں طیاروں کو اتارنے، فضا میں واپس بلند کرنے، دوبارہ مسلح اور ایندھن بھرنے کی صلاحیت کو جانچنا ہے۔نامور صحافی دانش حسین بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔گذشتہ برس مارچ میں پاکستان کی مرکزی شاہراہ موٹر وے کو لگ بھگ چھ گھنٹوں کے لیے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے موٹر وے کے کچھ حصوں کو ایمرجنسی لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے استعمال کرنے کی مشق کی تھی اور ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ ایسا کیوں کیا جاتا ہے۔لڑاکا طیاروں کو لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے کس طرح کی جگہیں درکار ہوتی ہیں یہ جاننے کے لیے ہم نے ایئر مارشل (ریٹائرڈ) مسعود اختر سے بات کی۔سابقہ ایئر مارشل مسعود اختر کا کہنا تھا ہر قسم کے طیاروں بشمول لڑاکا جہازوں میں ‘لوڈ کلاسیفیکیشن نمبرز’ ہوتے ہیں اور باقاعدہ رن ویز کے علاوہ طیارے کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے کسی سطح کے انتخاب سے قبل ان نمبرز کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے۔’ایک مکمل طور پر لوڈڈ (مسلح) لڑاکا جہاز کا وزن تیس سے پچاس ہزار پاؤنڈ تک ہو سکتا ہے جبکہ ایئر بس کا وزن کم و بیش ایک لاکھ پاؤنڈ تک ہوتا ہے۔ طیارے کے لوڈ کلاسیفیکیشن نمبر کے حساب سے لینڈنگ اور ٹیک آف کی سطح کو اتنا ہی مضبوط، لمبا اور چوڑا ہونا چاہیے۔‘انھوں نے بتایا کہ عمومی طور پر طیارے کو لینڈنگ اور ٹیک آف

کے لیے نو سے 10 ہزار فٹ (یا کم و بیش تین کلو میٹر) لمبی جبکہ 150 فٹ چوڑی سطح درکار ہوتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ موجودہ رن ویز کے علاوہ پاکستان کی فضائیہ کے پاس موٹر وے ہی ایسی جگہ ہے جہاں یہ کام ہو سکتا ہے اور پاکستانی فضائیہ تقریباً گذشتہ 10 برسوں سے موٹر ویز کو اس قسم کی مشقوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ موٹر وے کی تعمیر سے پہلے فضائیہ اس نوعیت کی مشقیں کدھر کرتی تھی؟ تو ان کا جواب تھا کہ اس مقصد کے لیے باقاعدہ رن ویز اور ایئر فیلڈز استعمال کی جاتیں تھیں ہائی ویز یا موٹر ویز نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہر سال یہ مشق کی جاتی ہے اور اس کا بنیادی مقصد ہمارے ہوا بازوں اور عملے کے اراکین کی ہنگامی صورتحال کے بارے میں تیاری ہے تاکہ ان کو معلوم ہو کہ ضرورت کے وقت ہنگامی لینڈنگ اور ٹیک آف کس طرح مکمن ہو گا اور دشمن کے لیے بھی تاکہ ان کو معلوم ہو کہ ہمارا انحصار صرف باقاعدہ رن ویز پر نہیں ہے۔‘ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ فضائیہ موٹر وے پر کس کس جگہ طیارے اتارنے اور فضا میں بلند کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اس کا علم صرف فضائیہ کو ہی ہوتا ہے اور اس طرح کی تفصیلات کو عام نہیں کیا جاتا۔نہ صرف پاکستان بلکہ ہمسایہ ملک انڈیا اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ایئر فورسز اس نوعیت کی مشقیں کرتی رہتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘انڈیا میں یہ کام کم اور کافی دیر میں شروع ہوا تاہم پاکستان میں یہ باقاعدگی سے اور کافی عرصے سے ہو رہا ہے۔‘ انڈیا نے پہلی مرتبہ لڑاکا طیارہ دلی کو آگرہ سے ملانے والی جمنا ایکسپریس وے پر اتارنے کی مشق مئی 2015 میں کی تھی۔ ایک میراج 2000 لڑاکا جہاز نے کامیابی سے اس سڑک پر لینڈنگ اور ٹیک آف کیا تھا۔سابقہ ایئر مارشل مسعود اختر نے بتایا کہ انھوں نے سروس کے دوران پہلی مرتبہ سویڈن کی فضائیہ کو موٹر ویز پر اس طرح کی مشقیں کرتے دیکھا جہاں ساب وِیگن طیاروں کو استعمال کیا گیا تھا جبکہ وہاں اب بھی اس طرح کی مشقیں ساب گریپن طیاروں کو استعمال کرتے ہوئے کی جاتی ہیں۔ ایک ریٹائرڈ ایئر کموڈور کا کہنا تھا کہ ان مشقوں کا مقصد یہ ہے کہ اگر ایمرجنسی حالات ہیں اور فضائیہ کی باقاعدہ ایئر فیلڈز مصروف ہیں یا اٹیکس کی زد میں ہیں اور ایسے میں اگر ایک طیارے کے پاس مطلوبہ مقدار میں ایندھن نہیں ہے یا کوئی اور ہنگامی صورتحال ہے تو اس کو لینڈ کروانے کے لیے مناسب جگہ کی موجودگی ضروری ہے۔’یہ مشقیں صرف ایمرجنسی لینڈنگ اور ٹیک آف کی تیاری کے لیے ہوتی ہیں۔‘ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہنگامی لینڈنگ کے لیے صرف سطح کی لمبائی اور چوڑائی دیکھی جاتی ہے جبکہ مضبوطی اتنی اہم نہیں ہوتی۔جس دن پاک فضائیہ کے طیاروں نے یہ مشق کرنا ہوتی ہے اس روز موٹروے کو عام ٹریفک کے لیے بند کردیا جاتا ہے اور اسکے پہلے سے عوام کو بتایا جاتا ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *