سابق چیف جسٹس کا تفصیلی موقف سامنے آگیا

نوازشریف اور راجا فاروق حیدر پردرج غداری کے ایف آئی آر بارے سابق چیف جسٹس کا تفصیلی موقف سامنے آگیا

اسلام آباد سپریم کورٹ آف آزادکشمیر کے سابق چیف جسٹس سید منظور گیلانی نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعظم آزادکشمر راجا فاروق حیدر خان پر لاہور کے تھانے میں غداری کا مقدمہ درج کیے جانے پر قانونی رائے دیتے ہوے سٹیٹ ویوز کو بتایا کہ ایف آئی آر میں درج بالا دفعات میں غداری کا مقدمہ وفاقی حکومت کی منظوری اور درخواست پر ہی درج ہو سکتا ہے اس لئے کسی تھانے کواس بنیاد پر کوئی کیس رجسٹرڈ کرنے کا اختیار ہی نہیں ہوتا۔ جسٹس (ر) سید منظور گیلانی نے کہا کہ آزاد کشمیر، پاکستان کے آئین کے تحت پاکستان کا حصہ نہیں، نہ ہی اس قانون کا اطلاق آزاد کشمیر پر ہوتا ہے جس کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی گئی ہے۔جس شخص کے بیان کی بنیاد پر یہ درخواست دی گئی ہے اس کا مبینہ بیان غداری کی تعریف میں آتا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ تو وفاقی حکومت نے کرنا ہے ، وہ شخص اس وقت پاکستان کے کسی تھانے کی حدود میں نہیں رہتا لہٰذا اس درخواست پر پاکستان کا کوئی تھانہ کیس رجسٹرڈ نہیں کر سکتا۔ سید مظور گیلانی نے کہا کہ اگروفاقی حکومت کے اطمینان میں کوئی جرم بنتا بھی ہو وہ راجہ فاروق حیدر کے خلاف نہیں بنتا کیونکہ وہ اس مقام پر اور اس شخص کے ساتھ اس وقت، اس سے پہلے یا بعد موجود نہیں تھے جس وقت کا وقوع ان سے منسوب کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان کے ساتھ کوئی ایسا بیان منسوب ہے۔

آئین پاکستان کے تحت کون غدار ہوتا ہے؟
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 6 کہتا ہے کہ ’ہر وہ شخص غدار ہے جو طاقت کے استعمال یا کسی بھی غیر آئینی طریقے سے آئینِ پاکستان کو منسوخ، تحلیل، معطل یا عارضی طور پر بھی معطل کرتا ہے یا ایسا کرنے کی کوشش بھی کرتا یا ایسا کرنے کی سازش میں شریک ہوتا ہے۔‘یہ آئینی تعریف کی وہ شکل ہے جو آئین میں 18ویں ترمیم کے بعد سامنے آتی ہے۔

غدار کون قرار دے گا؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ غداری کا تعین کرنا اور اس کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنا صرف اور صرف وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔ اس بات کی تحقیق کے بعد وفاقی حکومت شکایت کا آغاز کرتی ہے۔ماہر قانون ایس ایم ظفر کے مطابق غداری کی کارروائی کا آغاز وزیرِ داخلہ کر سکتے ہیں تاہم اس کا حتمی فیصلہ وزیرِ اعظم اور ان کی وفاقی کابینہ کرتی ہے۔ پاکستان میں کب اور کس کو غدار کہا گیا؟ اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان میں اپنے کسی بھی سیاسی حریف کو غدار قرار دینے کا سلسلہ ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے حسین شہید سہروردی کو قرار دے کر شروع کیا تھا۔اس کے بعد ایوب دور میں قائداعظم کی ہمشیرہ اور صدارتی امیدوار فاطمہ جناح کو غدار قرار دیا گیا۔خدائی خدمت گار تحریک کے خان عبدالغفار خان کو بھی غدار کہا گیا۔ بھٹو دور میں نیشنل عوامی پارٹی اور اس کے رہنماؤں پر غداری کے مقدمات قائم ہوئے۔پھر اسی ذوالفقار بھٹو کو ملک دو لخت کرنے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا اور پیپلز پارٹی تمام تر کوششوں کے باوجود ’ادھر تم اور ادھر ہم‘ کے مبینہ بیان جیسے دھبے کو مٹا نہیں سکی۔جام صادق اور غلام مصطفیٰ کھر پر بھی غداری کے الزامات لگے اور انھیں انڈین ایجنٹ قرار دیا گیا۔ عبد الصمد خان اچکزئی، عطاءاللہ خان مینگل، غوث بخش بزنجو، خیر بخش مری بھی غداری کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں۔ضیا دور میں ایم آر ڈی کے کئی راہنماؤں کو بھی غداری کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔سینیئر صحافی ضیاالدین نے ’اردو نیوز‘ سے گفتگو میں کہا کہ عموماً غداری کے ان الزامات کا مقصد ناپسند سیاست دانوں کو عوام میں بدنام کرنا ہوتا ہے۔ ماضی میں بنگال، سندھ اور بلوچستان کے رہنماؤں کو غدار کہا جاتا تھا تاکہ ملک کی بڑی آبادی یعنی پنجاب میں ان کو بدنام کیا جائے۔مکافات عمل کہیے یا سیاسی مجبوریاں کہ نواز شریف نے بے نظیر بھٹو کو سیکیورٹی رسک قرار دیا تو بلاول بھٹو زرداری نے انھیں ’مودی کا یار‘ قرار دے کر بدلہ لے لیا۔ تاہم کچھ ہی دنوں بعد وہ اپنے اس بیان سے یہ کہہ کر مکر گئے کہ ’میں منتخب وزیر اعظم کو غدار نہیں کہہ سکتا۔ڈان لیکس میں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو غدار قرار دے کر سوشل میڈیا پر ان کے خلاف بھرپور مہم چلی۔نواز شریف کی انڈین بزنس مین سجن جندال سے مری میں ہونے والی ملاقات کو بنیاد بنا کر بھی ان کو سیکیورٹی رسک قرار دیا جاتا رہا ہے بلکہ ان کی بحیثیت وزیر اعظم انڈین قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ضیا الدین کے مطابق ’پنجاب بالخصوص وسطی پنجاب میں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے غدار قرار دیے گئے افراد کو غدار کے طور پر قبول کر لیا جاتا ہے۔ اب پہلی بار ہے کہ اسی پنجاب کے لوگوں کو غدار قرار دیا جا رہا ہے اسی وجہ سے اس الزام کو عوامی مقبولیت حاصل ہونے میں مشکل ہو رہی ہے۔صرف سیاست دان ہی نہیں پاکستان میں شاعروں اور ادیبوں کو بھی غداری کے فتووں کا سامنا رہا ہے۔ فیض احمد فیض، جالب اور موجودہ وزیر اطلاعات شبلی فراز کے والد احمد فراز بھی ’غداروں‘ کی فہرست میں شامل رہے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *