مولانا آپ تو عورت کی حکمرانی کو ناجائز قرار دیتے رہے، اگر مریم نواز وزیراعظم بنتی ہیں تو کیا آپ انہیں سپورٹ کریں گے؟ صحافی کے سوال پر مولانا فضل الرحمان کا ایسا جواب کہ جان کر آپ بھی سر پکڑ لیں گے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اپوزیشن رہنماؤں کی مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے مولانا فضل الرحمان سے سوال کیا کہ ماضی میں آپ عورت کی حکمرانی کو ناجائز قرار دیتے رہے ہیں اب اگر مریم نواز وزیراعظم بنتی ہیںتو ایسے میں کیا انہیں ملک کی حکمران تسلیم کر لیں گے؟ صحافی کا جواب دینے کے بجائے

انہوں نے کہاکہ آپ کو یہ سوال پیچھے سے فیڈ کیا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے بعد میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہر اتحاد اور ہر تحریک کا ایک بنیادی پوائنٹ ہوتا ہے۔ ہمارا بنیادی ایجنڈا قوم کو ووٹ کا حق دلانا ہے، ہمارا ووٹر مرد بھی ہے اور خاتون بھی ہے لٰہذا مرد ہو یا عورت اس کی امانت واپس لوٹانا، اس میں میرا بھی کردار ہوگا اور مریم بی بی کا بھی کردار ہوگا۔ یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمان نے جب بے نظیر بھٹو وزارتِ عظمیٰ کی امیدوار تھیں اس موقع پر فتویٰ جاری کیا تھا کہ اسلام میں عورت کی حکمرانی ناجائز ہے لیکن جب بے نظیر بھٹو وزیراعظم بن گئیں تو مولانا فضل الرحمان پی پی حکومت کا حصہ بن گئے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف نے پارٹی کے تمام ارکان قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی،سینیٹرز اور ٹکٹ ہولڈرز کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو بہت دیر سے سیاست کے میدان میں ہیں اور پاکستان کے عوام کی خدمت کا فریضہ اٹھایا ہواہے ، آپ کے کندھوں پر ذمہ داری ہے ، آپ بھی تو سوچتے ہوں گے کہ پاکستان کے اندر کیا ہوتاہے کہ کبھی یہاں پر ایک نظام ہوتاہے اور پھر اسے ختم کر کے دوسرا نظام آجاتاہے ، اس کے بعد تیسرا آجاتاہے ، یہ پاکستان کا آئین ہے جس کو آپ کئی مرتبہ پڑھ چکے ہوں گے ،میں بھی پڑھ چکا ہوں ، اس آئین کے مطابق نا پارلیمنٹ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ ہی عدلیہ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ پاکستان کے کئی دوسرے اداروں کو چلنے دیا جاتاہے ، ایسی طاقتیں جو اس پر مکمل طور پر حاوی ہو جاتی ہیں، زیادہ دور نہ جائیں 2017 میں یہ پاکستان کی خدمت کا ہم اپنا فریضہ انجام دے رہے تھے ،میں ہی اس فریضے کی سربراہی کر رہا تھا ، پاکستان کا وزیراعظم تھا ، یکا یک کیا ہو گیا ، کیا ہوا کہ مجھے بالکل مکھن سے بال کی طرح نکال کر پھینک دیا گیا ، کچھ آپ کو سمجھ آتی ہے، تو آتی ہو گی، مجھے نہیں آتی ،یہ حقیقت ہے ،پھر ایک وزیراعظم کو آپ نکال رہے ہیں ، کوئی معقول وجہ ہو تو میں بھی کہوں کے معقول وجہ تھی ، اگر میرے ساتھ یہ سلوک ہواہے تو اس کے پیچھے کو ئی معقول وجہ ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ، میں کہتا کہ اس میں میرا بھی قصور ہے تو یہ فیصلہ میرے خلاف آیاہے تو ٹھیک ہے ، مجھے اپنے کیے کی سزا ملی ہے ، لیکن کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایک شخص کو اس لیے وزارت عظمیٰ سے نکال باہر کریں کہ اس نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، اور اس کے پاس ایک اقامہ تھا ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *