حیران کن انکشاف : بغاوت کے مقدمے میں ابھی تک کسی (ن) لیگی رہنما نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست نہیں دی ، مگر کیوں ؟ تازہ ترین خبر

لاہور (ویب ڈیسک) اردو ٹی وی شاہدرہ میں نوازشریف اور مسلم لیگی رہنمائوں کے خلاف درج بغاوت کے مقدمہ میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی۔ مقدمہ میں نامزد کسی بھی مسلم لیگی رہنما نے ضمانت قبل از گرفتاری بھی نہیں کروائی۔ گرفتاریوں کے بارے میں جب ایس پی انویسٹی گیشن سٹی ڈویژن توحید الرحمٰن سے

رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ڈی ایس پی معاملہ کو دیکھ رہے ہیں ان سے بات کرلیں۔ جب ڈی ایس پی شیخ غیاث سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ گرفتاریوں کے بارے میں ابھی تک کوئی حکم نامہ نہیں ملا جیسے ہی کوئی حکم ملا کارروائی کریں گے۔ جبکہ سی سی پی اوترجمان کے مطابق اس مقدمہ کی تفتیش تمام پہلوئوں اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میرٹ پر کی جا رہی ہے اور تفتیش میں جن افراد کے خلاف قابل دست اندازی جرم کے سرزد ہونے کے ثبوت ملے صرف انہی افراد کے خلاف قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے روبرو کہا ہے کہ بھارت نے ایک بار پھر کلبھوشن یادیو سے متعلق عدالتی کارروائی کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ بھارت اور کلبھوشن وکیل نہیں کرتے تو کیس کیسے آگے بڑھائیں؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کلبھوشن یادیو کیس میں عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ پر عمل درآمد سے متعلق قانونی نکات پر معاونت طلب کرلی۔سماعت سے قبل 2 سینئر وکلا مخدوم علی خان اور عابد حسن منٹو نے عدالتی معاونت سے معذرت کرلی۔ عابد حسن منٹو نے خراب صحت جب کہ مخدوم علی خان نے پروفیشنل وجوہات کی بنیاد پر پیش ہونے سے معذرت کرلی۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کیلئے وزارت قانون کی درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت کو بتایا کہ وزارت خارجہ نے 4 ستمبر کو بھارتی وزارت خارجہ کو عدالتی حکم کے حوالے سے آگاہ کیا، 7 ستمبر کو بھارتی حکومت نے پاکستانی وزارت خارجہ کا جواب دیا، بھارت نے ایک بار پھر عدالتی کارروائی کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بھارت جان بوجھ کر کلبھوشن یادیو کیس سے بھاگ رہا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کو کلبھوشن کے مستقبل سے کوئی دلچسپی نہیں، وہ سیاسی طور پر معاملے کو دیکھنا چاہتا ہے۔آئینی طور پر ہماری ذمہ داری ہے کہ فئیر ٹرائل کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں،میری استدعا ہے کہ کارروائی آگے بڑھانے کیلئے عدالت کلبھوشن کیلئے وکیل مقرر کرے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *