لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔۔۔!!!!اپوزیشن جماعتوں کی ممکنہ تحریک، رہنماؤں و کارکنوں کی گرفتاری کیلئے بڑا قدم اٹھا لیا گیا

پشاور (ویب ڈیسک) اپوزیشن جماعتوں کے ممکنہ تحریک کے پیش نظررہنماؤں، کارکنوں کے ممکنہ گرفتاریوں کے پیش نظر فہرستیں مرتب کرنا شروع کردیا ہے ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کےسرگرم کارکنوں او رہنماؤں کی تفصیلات طلب کی گئی ہے ان کے صوبے میں ہونے والی سرگرمیوں کی تفصیلات

بھی طلب کی گئی ہے ذرائع نے بتایا ہے کہ سیاسی اجتماع کی جگہ سیکورٹی انتظامات اوردیگر امور کی اجازت بھی قانون نافذ کرنے والے ادارں کی رپورٹ پر دی جائیگی تاکہ ملک میں امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھاجا سکے۔پشاور میں حکومت مخالف جلسوں کے لئے ضلعی انتظامیہ کی اجازت لینا لازمی ہو گا پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ اتحاد کے ہونے والے جلسے کی اجازت بھی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دی جائیگی۔ پشاور سمیت صوبے بھر میں پاکستان ڈیمو کریٹ مومنٹ کے سرگرم کارکنوں او رہنماؤں کی تفصیلات طلب کی گئی ہے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق نوازشریف نے کہاہے کہ مجھے کیا ضرورت تھی اقامہ کی ، اگر 1999 میں مارشل لاءنہ لگتا اور پاکستان سے باہر نہ بھیجا جاتا ، بشمول ساری فیملی تو مجھے کسی جگہ کا اقامہ لینے کی کیا ضرورت تھی ، وہاں رہنے کیلئے اقامہ لازمی تھا ، سعودی عرب جانے کے فوری بعد بنوایا ، اس کے بعد پاکستان میں مجھے سات سال نہیں آنے دیا گیا ۔سابق وزیراعظم نوازشریف نے پارٹی کے تمام ارکان قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی،سینیٹرز اور ٹکٹ ہولڈرز کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو بہت دیر سے سیاست کے میدان میں ہیں اور پاکستان کے عوام کی خدمت کا فریضہ اٹھایا ہواہے ، آپ کے کندھوں پر ذمہ داری ہے ، آپ بھی تو سوچتے ہوں گے کہ پاکستان کے اندر کیا ہوتاہے کہ کبھی یہاں پر ایک نظام ہوتاہے اور پھر اسے ختم کر کے دوسرا نظام آجاتاہے ، اس کے بعد تیسرا آجاتاہے ، یہ پاکستان کا آئین ہے جس کو آپ کئی مرتبہ پڑھ چکے ہوں گے ،میں بھی پڑھ چکا ہوں ، اس آئین کے مطابق نا پارلیمنٹ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ ہی عدلیہ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ پاکستان کے کئی دوسرے اداروں کو چلنے دیا جاتاہے ، ایسی طاقتیں جو اس پر مکمل طور پر حاوی ہو جاتی ہیں، زیادہ دور نہ جائیں 2017 میں یہ پاکستان کی خدمت کا ہم اپنا فریضہ انجام دے رہے تھے ،میں ہی اس فریضے کی سربراہی کر رہا تھا ، پاکستان کا وزیراعظم تھا ، یکا یک کیا ہو گیا ، کیا ہوا کہ مجھے بالکل مکھن سے بال کی طرح نکال کر پھینک دیا گیا ، کچھ آپ کو سمجھ آتی ہے، تو آتی ہو گی، مجھے نہیں آتی ،یہ حقیقت ہے ،پھر ایک وزیراعظم کو آپ نکال رہے ہیں ، کوئی معقول وجہ ہو تو میں بھی کہوں کے معقول وجہ تھی ، اگر میرے ساتھ یہ سلوک ہواہے تو اس کے پیچھے کو ئی معقول وجہ ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ، میں کہتا کہ اس میں میرا بھی قصور ہے تو یہ فیصلہ میرے خلاف آیاہے تو ٹھیک ہے ، مجھے اپنے کیے کی سزا ملی ہے ، لیکن کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایک شخص کو اس لیے وزارت عظمیٰ سے نکال باہر کریں کہ اس نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، اور اس کے پاس ایک اقامہ تھا ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *