یہ کام اپنے وقت پر ہو جانا چاہیے مزید تاخیر برداشت نہیں کروں گا ۔۔۔!!! وزیراعظم عمران خان نے دو ٹوک اعلان کر دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تعمیراتی شعبے کی ترقی کے لیے کوششیں تاخیر کا شکار نہ ہوں۔ کورونا سے متاثرہ معیشت کی بحالی کے لیے تعمیراتی شعبہ بہت اہم ہے۔نجی چینل جیونیوز کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا چیئرمین نیا پاکستان ہاﺅسنگ اتھارٹی، چیف سیکریٹریز کو تعمیراتی شعبہ پر توجہ دینے کی

ہدایت کر دی ، ان کا کہنا تھا کہ کورونا سے متاثرہ معیشت کی بحالی کے لیے تعمیراتی شعبہ بہت اہم ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے این سی سی برائے مکانات، تعمیرات وترقی کے اجلاس کی صدارت کی، وزیراعظم عمران خان کو تعمیراتی شعبے میں جاری منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم کو بتایا گیا کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاﺅسنگ اتھارٹی کے 10منصوبے تعطل کا شکار تھے، کام دوبارہ شروع ہونے سے 38ہزار 667یونٹس تعمیر ہوں گے، منصوبوں کا تخمینہ 120.21ارب روپے ہے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ پاکستان ہاﺅسنگ فاﺅنڈیشن کے 27ارب 85کروڑ کے 3منصوبے ہیں، تینوں منصوبوں سے 5ہزار 372یونٹس تعمیرہوں گے۔وزیراعظم عمران خان نے تعمیراتی شعبے کی ترقی کے لیے جاری کوششوں کو تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کورونامتاثرہ معیشت کی بحالی کیلئے تعمیراتی شعبہ بہت اہم ہے، اس کی ترقی کے لیے کوششیں تاخیر کا شکار نہ ہوں۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف نے پارٹی کے تمام ارکان قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی،سینیٹرز اور ٹکٹ ہولڈرز کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو بہت دیر سے سیاست کے میدان میں ہیں اور پاکستان کے عوام کی خدمت کا فریضہ اٹھایا ہواہے ، آپ کے کندھوں پر ذمہ داری ہے ، آپ بھی تو سوچتے ہوں گے کہ پاکستان کے اندر کیا ہوتاہے کہ کبھی یہاں پر ایک نظام ہوتاہے اور پھر اسے ختم کر کے دوسرا نظام آجاتاہے ، اس کے بعد تیسرا آجاتاہے ، یہ پاکستان کا آئین ہے جس کو آپ کئی مرتبہ پڑھ چکے ہوں گے ،میں بھی پڑھ چکا ہوں ، اس آئین کے مطابق نا پارلیمنٹ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ ہی عدلیہ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ پاکستان کے کئی دوسرے اداروں کو چلنے دیا جاتاہے ، ایسی طاقتیں جو اس پر مکمل طور پر حاوی ہو جاتی ہیں، زیادہ دور نہ جائیں 2017 میں یہ پاکستان کی خدمت کا ہم اپنا فریضہ انجام دے رہے تھے ،میں ہی اس فریضے کی سربراہی کر رہا تھا ، پاکستان کا وزیراعظم تھا ، یکا یک کیا ہو گیا ، کیا ہوا کہ مجھے بالکل مکھن سے بال کی طرح نکال کر پھینک دیا گیا ، کچھ آپ کو سمجھ آتی ہے، تو آتی ہو گی، مجھے نہیں آتی ،یہ حقیقت ہے ،پھر ایک وزیراعظم کو آپ نکال رہے ہیں ، کوئی معقول وجہ ہو تو میں بھی کہوں کے معقول وجہ تھی ، اگر میرے ساتھ یہ سلوک ہواہے تو اس کے پیچھے کو ئی معقول وجہ ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ، میں کہتا کہ اس میں میرا بھی قصور ہے تو یہ فیصلہ میرے خلاف آیاہے تو ٹھیک ہے ، مجھے اپنے کیے کی سزا ملی ہے ، لیکن کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایک شخص کو اس لیے وزارت عظمیٰ سے نکال باہر کریں کہ اس نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، اور اس کے پاس ایک اقامہ تھا ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *