شریف خاندان سر بازار رسوا ۔۔۔۔ بڑی عدالتی کارروائی کی خبر آگئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک)سابق وزیراعظم نواز شریف اشتہار کے ذریعے طلبی کے معاملے پررجسٹرارآفس کا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے بتایا ہےکہ سابق نوازشریف کےاشتہارات پیر کو اخبارات میں شائع کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اور کہا اشتہارشائع ہونے کے بعدعدالتی حکم کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں اشتہار کے ذریعے نواز شریف کی طلبی کے معاملے پر رجسٹرارآفس نے نوازشریف کے اشتہارات پیر کو اخبارات میں شائع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔رجسٹرارآفس کا کہنا ہے کہ نوازشریف کیخلاف کرمنل پروسیجر87کےتحت کارروائی کریں گے جبکہ عدالت نے اخبارات میں تشہیر کے بعد کاپی نواز شریف کوارسال کرنے کا حکم دیا۔رجسٹرارآفس نے مزید کہا کہ سارامعاملہ عدالتی احکامات کے عین مطابق کریں گے، نوازشریف کی طلبی کااشتہار2اخباروں کےکوارٹرپیج پرشائع کیاجائےگا اور اشتہار شائع ہونے کے بعدعدالتی حکم کے تحت کارروائی کی جائے گی۔گذشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرارآفس نے نوازشریف کی اشتہارات کے زریعے طلبی کے احکامات پرعملدرآمد کرتے ہوئے کارروائی شروع کی تھی۔رجسٹرارآفس کے مطابق ڈویژن بینچ کی جانب سےتحریری حکم نامہ آج ملا،نوازشریف کےعدالت طلبی کےاشتہارکل جاری کئے جائیں گے، عدالت عالیہ نے نواز شریف طلبی کا اشتہار 2اخبارات میں جاری کرنے کا حکم دیا تھا ، ڈپٹی اٹارنی جنرل آفس سے اشتہارات کی مد میں 60ہزارروپے ہائی کورٹ رجسٹرارآفس کو مل گئے ہیں۔یاد رہے اسلام آبادہائی کورٹ نے نواز شریف کے اشتہارجاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ 30 دن کے اندر اگر ملزم پیش نہیں ہوتے تو اشتہاری قرار دیا جائے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزاؤں کے خلاف نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر د یا ہے۔عدالت نے حکم نامے میں کہا ہے کہ نواز شریف کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے بذریعہ اشتہار مطلع کیا جائے، اشتہار کے ذریعے نواز شریف کو آگاہ کیا جائے کہ 24 نومبر کو عدالت کے سامنے پیش ہوں، عدالت طلبی سے متعلق اخبار اشتہار کی نقول برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعے نواز شریف کو بھجوائی جائیں، وزارت خارجہ اس سے متعلق ضروری اقدامات کرے، اخبار اشتہار کے اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے اور ایک ہفتے میں اس کی ادائیگی کرے۔عدالتی حکم کے مطابق گواہوں اور دستاویزات سے ثابت ہوا ہے کہ ہر ممکن کوشش کے باوجود نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہیں ہوسکی، نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث 15 ستمبر کو وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد سے پیش نہیں ہوئے، ان حالات میں عدالت کے پاس نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *