بریکنگ نیوز:نیب کی جانب سے اداروں کو نواز شریف کا نام سٹاپ لسٹ میں شامل کرنے کے لیے خط، (ن)لیگ سٹپٹا کر رہ گئی

لاہور(ویب ڈ یسک)نیب نے نوازشریف کا نام سٹاپ لسٹ میں شامل کرنے کے لیے دیگر اداروں کو خط لکھ دیا ہے۔نجی چینل بول ٹی وی کے مطابق قومی احتساب بیور کی جانب سے نوازشریف کا نام سٹاپ لسٹ میں شامل کرنے کے لیے دیگر اداروںکو خط لکھا گیا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف کے

اشتہار ی ہنوے کا ریکارڈ امیگریشن سسٹم میں شامل کیا جائے۔علاوہ ازیں نوازشریف کے اشتہاری ہونے کے معاملے پر پولیس کو بھی خط ارسال کیا گیا ہے اور ہدایت کی گئی ہے کہ رائے ونڈ کے باہر بھی اشتہار چسپاں کیا جائے۔دوسری جانب ایف آئی اے ذرائع نے خط ملنے کی تصدیق کر دی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خط ڈی جی ایف آئی اے کو موصول ہوچکا ہے اور نیب کے خط پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق نوازشریف نے کہاہے کہ مجھے کیا ضرورت تھی اقامہ کی ، اگر 1999 میں مارشل لاءنہ لگتا اور پاکستان سے باہر نہ بھیجا جاتا ، بشمول ساری فیملی تو مجھے کسی جگہ کا اقامہ لینے کی کیا ضرورت تھی ، وہاں رہنے کیلئے اقامہ لازمی تھا ، سعودی عرب جانے کے فوری بعد بنوایا ، اس کے بعد پاکستان میں مجھے سات سال نہیں آنے دیا گیا ۔سابق وزیراعظم نوازشریف نے پارٹی کے تمام ارکان قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی،سینیٹرز اور ٹکٹ ہولڈرز کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو بہت دیر سے سیاست کے میدان میں ہیں اور پاکستان کے عوام کی خدمت کا فریضہ اٹھایا ہواہے ، آپ کے کندھوں پر ذمہ داری ہے ، آپ بھی تو سوچتے ہوں گے کہ پاکستان کے اندر کیا ہوتاہے کہ کبھی یہاں پر ایک نظام ہوتاہے اور پھر اسے ختم کر کے دوسرا نظام آجاتاہے ، اس کے بعد تیسرا آجاتاہے ، یہ پاکستان کا آئین ہے جس کو آپ کئی مرتبہ پڑھ چکے ہوں گے ،میں بھی پڑھ چکا ہوں ، اس آئین کے مطابق نا پارلیمنٹ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ ہی عدلیہ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ پاکستان کے کئی دوسرے اداروں کو چلنے دیا جاتاہے ، ایسی طاقتیں جو اس پر مکمل طور پر حاوی ہو جاتی ہیں، زیادہ دور نہ جائیں 2017 میں یہ پاکستان کی خدمت کا ہم اپنا فریضہ انجام دے رہے تھے ،میں ہی اس فریضے کی سربراہی کر رہا تھا ، پاکستان کا وزیراعظم تھا ، یکا یک کیا ہو گیا ، کیا ہوا کہ مجھے بالکل مکھن سے بال کی طرح نکال کر پھینک دیا گیا ، کچھ آپ کو سمجھ آتی ہے، تو آتی ہو گی، مجھے نہیں آتی ،یہ حقیقت ہے ،پھر ایک وزیراعظم کو آپ نکال رہے ہیں ، کوئی معقول وجہ ہو تو میں بھی کہوں کے معقول وجہ تھی ، اگر میرے ساتھ یہ سلوک ہواہے تو اس کے پیچھے کو ئی معقول وجہ ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ، میں کہتا کہ اس میں میرا بھی قصور ہے تو یہ فیصلہ میرے خلاف آیاہے تو ٹھیک ہے ، مجھے اپنے کیے کی سزا ملی ہے ، لیکن کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایک شخص کو اس لیے وزارت عظمیٰ سے نکال باہر کریں کہ اس نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، اور اس کے پاس ایک اقامہ تھا ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *