اپوزیشن کو جلسے جلوسوں کیلئے فنڈنگ کون کر رہا ہے؟ نام آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کر ڈالے گا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اردو ٹی وی مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو جلسے جلوسوں کیلئے کون فنڈنگ کر رہا ہے؟ ہماری نظرمیں ہے، کون اس ملک میں اپنابیانیہ لاناچاہتے ہیں ہمیں پتہ ہے۔ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ ہم توآج بھی کہتے ہیں آجائیں کنٹینرہم دیں گے، 2،3 ممالک بھی اورکیش کیری بوائزبھی

سرگرم ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں یہ لوگ این آراولیکربچتے رہے ہیں، اس مرتبہ ان کوکسی قسم کااین آراونہیں ملے گا، نیب قوانین میں ترمیم کے ذریعے انہوں نے این آراولینے کی کوشش کی، ہرطرف سے ناکامی کے بعداب یہ نام نہاد تحریک لا رہے ہیں۔مشیر داخلہ نے کہا کہ کہیں ایساتونہیں غداری کامقدمہ ن لیگ نے خودہی کرادیاہے، ہو سکتا ہے توجہ حاصل کرنے کیلئے خودہی غداری مقدمہ کرادیاگیاہو، شاہدخاقان مقدمہ کراناچاہتے ہیں تواس میں موادبھی ہوناچاہیے۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کومیڈیکل گراؤنڈپرضمانت ملی تھی، نوازشریف نے علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی درخواست دی جس پر ایک میڈیکل کمیٹی بنائی گئی، میڈیکل بورڈکے سربراہ کوبلاکرنوازشریف کی صحت پرسوالات کیے نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکلوانے کی درخواست دی۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف نے پارٹی کے تمام ارکان قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی،سینیٹرز اور ٹکٹ ہولڈرز کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو بہت دیر سے سیاست کے میدان میں ہیں اور پاکستان کے عوام کی خدمت کا فریضہ اٹھایا ہواہے ، آپ کے کندھوں پر ذمہ داری ہے ، آپ بھی تو سوچتے ہوں گے کہ پاکستان کے اندر کیا ہوتاہے کہ کبھی یہاں پر ایک نظام ہوتاہے اور پھر اسے ختم کر کے دوسرا نظام آجاتاہے ، اس کے بعد تیسرا آجاتاہے ، یہ پاکستان کا آئین ہے جس کو آپ کئی مرتبہ پڑھ چکے ہوں گے ،میں بھی پڑھ چکا ہوں ، اس آئین کے مطابق نا پارلیمنٹ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ ہی عدلیہ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ پاکستان کے کئی دوسرے اداروں کو چلنے دیا جاتاہے ، ایسی طاقتیں جو اس پر مکمل طور پر حاوی ہو جاتی ہیں، زیادہ دور نہ جائیں 2017 میں یہ پاکستان کی خدمت کا ہم اپنا فریضہ انجام دے رہے تھے ،میں ہی اس فریضے کی سربراہی کر رہا تھا ، پاکستان کا وزیراعظم تھا ، یکا یک کیا ہو گیا ، کیا ہوا کہ مجھے بالکل مکھن سے بال کی طرح نکال کر پھینک دیا گیا ، کچھ آپ کو سمجھ آتی ہے، تو آتی ہو گی، مجھے نہیں آتی ،یہ حقیقت ہے ،پھر ایک وزیراعظم کو آپ نکال رہے ہیں ، کوئی معقول وجہ ہو تو میں بھی کہوں کے معقول وجہ تھی ، اگر میرے ساتھ یہ سلوک ہواہے تو اس کے پیچھے کو ئی معقول وجہ ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ، میں کہتا کہ اس میں میرا بھی قصور ہے تو یہ فیصلہ میرے خلاف آیاہے تو ٹھیک ہے ، مجھے اپنے کیے کی سزا ملی ہے ، لیکن کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایک شخص کو اس لیے وزارت عظمیٰ سے نکال باہر کریں کہ اس نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، اور اس کے پاس ایک اقامہ تھا ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *