غریبوں کی سنی گئی ۔۔۔!!! وزیراعظم عمران خان نے وہ اعلان کر دیا جس کا سب کو بڑی بے صبری سے انتظار تھا ، بڑی خوشخبری سنا دی گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دنیاکو اسلاموفوبیا سے باہر نکلنا ہو گا،عالمی برادری دہرا معیارختم کرے،عوام کی مشکلات کا مکمل احساس ہے،مہنگائی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا،مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے زیادہ اقدامات اٹھائے جائیں،مہنگائی اور ذخیرہ اندوزوں کےمعاملےکی تہہ تک پہنچیں گے۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم عمران خان

کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں مہنگائی سمیت 12 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔کابینہ اجلاس میں ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور کابینہ کو گندم، چینی سمیت اشیائے ضروریہ کی دستیابی پر بریفنگ بھی دی گئی۔اجلاس میں کابینہ کو 30جنوری2021 تک گندم کی درآمد کی ٹائم لائن اور چینی کےدرآمدی شیڈول اورقیمتوں میں کمی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔وزارت صنعت و پید اوار نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ اس وقت 266,939 میٹرک ٹن چینی ملک میں دستیاب ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کی طرف سے 99,639 میٹرک ٹن چینی درآمد کی جاچکی ہے اور نومبر کے مہینے میں مزید 52,951 میٹرک ٹن چینی دستیاب ہوگی،کابینہ کو بتایا گیا کہ 30 نومبر 2020ء تک مطلوبہ تین لاکھ میٹرک ٹن چینی دستیاب ہوگی۔وزارت کامرس نے کابینہ کو گندم درآمد کے شیڈول کے بارے میں آگاہ کیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ تمام ترسیلات بروقت موصول ہوجائیں گی۔اس موقع پروزیراعظم نے ہدایت کی کہ گندم اور چینی کی ضروریات کو بروقت جانچنے کےلیے منظم اور مربوط طریقہ کار وضع کیاجائے جس میں تمام صوبوں کی ضروریات شامل ہوں،درآمد میں پیش مشکلات کا ازالہ کیاجائے تاکہ کمی پیش نہ آئے۔ وزیراعظم نے خصوصی تاکید کی کہ درآمد شدہ گندم کی کوالٹی کو یقینی بنایا جائے اور مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے زیادہ اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور ذخیرہ اندوزوں کےمعاملے کی تہہ تک پہنچیں گے۔کابینہ نےچار انسپیکشن کمپنیوں کو ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی طرف سے گندم کی درآمد ی کھیپ درآمد کرنے سے پہلے معائنہ

کرنے کی اجازت دی۔مزید برآں وزیراعظم نے گندم اور آٹے کی قیمتوں میں کمی کے لیے اجلاس طلب کر لیا۔کابینہ ڈویژن کی طرف سے مختلف وزارتوں، ڈویژنزاور ان کے ذیلی اداروں میں سی ای او اور منیجنگ ڈائریکٹرز کی خالی آسامیوں کو پر کرنے کےحوالےسےبریفنگ دیتے ہوئےکابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت وفاقی حکومت میں کل 129سی ای او اور منیجنگ ڈائریکٹرزکی آسامیاں خالی ہیں جن میں 33 آسامیاں مختلف اداروں کے آپس میں انضمام کی کارروائی کی وجہ سے خالی ہیں۔ وزیراعظم نے تمام وزارتوں کو تین مہینوں کے اندر خالی آسامیوں کو پر کرنے کی ہدایت دی اور اگلے کابینہ اجلاس میں صرف ان آسامیوں کی رپورٹ بشمول وجوہات پیش کرنے کی ہدایت کی جوکسی بھی وجہ سے پر نہیں کی جاسکتیں۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے جلاس میں عسکری ایئرلائن کے ریگولر پبلک ٹرانسپورٹ لائسنس منسوخ کرنے کی منظوری دی گئی۔ کابینہ اجلاس میں خلیجی ممالک کے شہزادوں کے لیے لائیوسٹاک برآمد کرنے اور نان ٹریٹی ممالک کی جانب سے میوچل لیگل اسسٹنس کی درخواستوں کی منظوری دی گئی۔وفاقی کابینہ کو فوجداری قوانین میں اصلاحات سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔ اس کے علاوہ ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم اور سازوسامان نصب کرنے سے متعلق پالیسی موخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔وزارت قانون و انصاف کی طرف سے کابینہ کو تعزیرات پاکستان اور دیگر قوانین میں اصلاحات پر بریفنگ دی گئی۔ کابینہ نے اصلاحات کا مسودہ کابینہ کی کمیٹی برائے قانونی اصلاحات کے سامنے رکھنے اور تین مہینوں کے اندر تمام اصلاحات کابینہ کو حتمی منظوری کے لیے پیش کرنے کی ہدایت کی۔

کابینہ نے ٹیلی کمیونیکشن ایکٹ 1996ء کے تحت پالیسی ہدایات جاری کرنے کا معاملہ کابینہ کی کمیٹی برائے قانونی اصلاحات کے سپرد کردیا۔ کمیٹی کی سفارشات موصول ہونے کے بعد کابینہ فیصلہ کرے گی۔ وزارت ریلوے نے کابینہ کو پاکستان ریلوے کی بحالی اور تنظیم نو کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی،کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ ریلوے کو منافع بخش اور خود مختار ادارہ بنانے کے لیے جامع پلان مرتب کیا گیا ہے۔ یہ تنظیم نو سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق ہے اور وزارت خزانہ، قانون اور ایسٹیلشمنٹ ڈویژن نے اس پلان کی تائید کی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اس پلان سے ایم ایل ون منصوبے کو بروقت مکمل کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بحالی اور تنظیم نو کے عمل کو مقررہ وقت پر مکمل کیا جائے۔ کابینہ نے کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی کے مورخہ 15اکتوبر 2020ء کو ہونے والے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ارکان نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی مذمت کی اور کہا کہ گستاخانہ خاکے اور ان کی تشہیر قابل قبول نہیں۔کابینہ ارکان نے کہا کہ اظہارآزادی رائے اور گستاخی میں فرق ہے جب کہ اس کی آڑمیں نفرت پھیلائی جا رہی ہے۔جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا کو اسلاموفوبیا سے باہر نکلنا ہو گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری دہرا معیارختم کرے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.