مسلم لیگ نوازکا عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان

مسلم لیگ نوازکا عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان

حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ کہاں سے ملتا ہے، وزیراعظم رہنے کے بعد میں بھی یہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا چاہتا ہوں. شاہدخاقان عباسی کی صحافیوں سے گفتگو

اسلام آباد( انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔07 اکتوبر ۔2020ء) سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وہ کل لاہور جائیں گے جہاں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے. مسلم لیگ (ن )کے راہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے خلاف شاہدرہ تھانے میں درج ہونے والے مقدمے کا آج تیسرا روز ہے اور اب حکومت کی جانب سے نئی کہانی آئی ہے کہ ہمیں علم نہیں مقدمہ کس نے درج کیا.

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ کہاں سے ملتا ہے، وزیراعظم رہنے کے بعد میں بھی حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا چاہتا ہوں‘ انہوں نے کہا کہ وہ 16 مشیر، معاون خصوصی اور کرائے کے ترجمان جو چند روز پہلے تک کہ رہے تھے کہ فلاں غدار ہے وہ آج نظر نہیں آتے بلکہ اب نئی کہانی یہ سامنے آئی کہ وزیراعظم کو مقدمے کے حوالے سے کوئی علم نہیں تھا بلکہ انہوں نے معلوم ہونے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے.

ان کا کہنا تھا ملک کا مسئلہ ہی یہ ہے کہ وزیراعظم کو معلوم نہیں ہے کہ ملک میں مہنگائی ہوگئی ہے، غربت بڑھتی جارہی ہے، بے روزگاری عام ہوگئی ہے، معیشت تباہ ہوگئی ہے، انہیں نہیں معلوم کے گزشتہ 2 سال میں انہوں نے اتنے قرضے لے لیے کہ جو گزشتہ 10 سال کے عرصے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے مل کر بھی نہیں لیے تھے.شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 4 دن وزرا غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتے رہے، اب مقدمہ درج ہوگیا ہے گزارش ہے کہ اس میں شامل ہوجائیں کہ ہم بھی گواہی دینے والے ہیں کہ فلاں بھارتی ایجنٹ اور غدار ہے، سارا ملک رہ رہا ہے اور بھارت اور مودی ہنس رہا ہے. سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے دنیا کے سامنے رکھا کہ آزاد کشمیر کا وزیراعظم بھارتی ایجنٹ ہے اور اس پر مقدمہ درج کردیا تو آپ کشمیر کا مقدمہ دنیا میں کیسے لڑیں گے انہوں نے کہاکہ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے 2 سابق وزیراعظم، وزیر دفاع، وفاقی وزرا، اسپیکر، وزیراعلیٰ کے علاوہ 3 ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل جو انتہائی اہم عہدوں پر فائز رہے اور ان کی قابلیت کا پورا ملک اعتراف کرتا ہے آج وہ بھی غدار ٹھہرے یہ اس ملک کی بدنصیبی نہیں تو اور کیا ہے.انہوں نے کہا کہ میں پوچھنا چاہتا ہوں حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ کہاں سے ملتا ہے، وزیراعظم رہنے کے بعد میں بھی حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا چاہتا ہوں کیوں کہ غداری کا الزام تو آپ نے لگا دیا ہے‘انہوں نے کہا کہ یہ حیران کن بات ہے کہ کوئی بھی وفاقی وزیر عوام کی مشکلات پر بات نہیں کرتا، عوام کی تکالیف، پاکستان کے مسائل کی بات نہیں کرتا بلکہ صرف غداری کے الزام لگاتے ہیں.راہنما مسلم لیگ (ن) کہا کہ غدار وہ ہوتے ہیں جو بھارت کو فائدہ پہنچاتے، کشمیر کا سودا کرتے، سی پیک بند کرتے، ملکی معیشت تباہ کرتے، جو عوام کو مشکل میں ڈالتے ہیں، آج غداری اور حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ نہ بانٹیں، عوام کی مشکلات حل کریں انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) حب الوطنی کے اعلامیے جاری کرنے کے لیے نہیں بنی بلکہ عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے بنی ہے.انہوں نے کہا کہ ایسے مقدمات پاکستان میں پہلے بھی بن چکے ہیں لیکن اس سطح کے نہیں بنے کہ جس میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم کو بھی شامل کیا، جن لوگوں نے اہم ترین عہدوں پر رہ کر ملک کی خدمت کی انہیں بھی بغیر ثبوت کے شامل کیا لیکن وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور وزرا کو علم نہیں ہے شاہد خاقان عباسی کے مطابق پاکستان کا وہ سب سے فرض شناس ایس ایچ او ہے جس نے رات کی تاریکی دیکھی نہ قانون دیکھا اور ایک شخص نے آکر کہا کہ میں پاکستان کے سابق وزرائے اعظم، آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور سابق وزرا کے خلاف پرچہ درج کروانا چاہتا ہوں اور اس نے رات کے 2 بج کر 25 منٹ پر مقدمہ درج کرلیا.انہوں نے کہا کہ اب میں بھی ایک مقدمہ درج کروانا چاہتا ہوں جو عمران خان کے خلاف کیوں کہ میں نے ٹی وی پر دیکھا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے ٹی وی پر کہا کہ وزیراعظم نے مجھے بلا کر نواز شریف،مریم نواز،کیپٹن صفدر اور دیگر پر مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی شاہد خاقان عباسی کے مطابق جس آدمی ذہنی کیفیت یہ ہو کہ اسے اپنے آئینی حلف کی پرواہ نہ ہو، آئین کی دفعہ62،63 اور اپنے عہدے کی بھی پرواہ نہ ہو اور پھر وہ قانون کو بالاتر رکھتے ہوئے ایک افسر کو کہے کے جھوٹے پرچے بناﺅیہ سب باتیں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مقدمہ بھی عمران خان کی ہدایت پر درج ہوا اور وفاقی وزرا جتنے بہانے بنالیں اس سب کے پیچھے عمران خان ہے.

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *