ترک صدرنے دارالحکومت انقرہ میں ایک تقریب کے دوران

ترک صدرنے فرانسیسی صدر کے بیان کو قابل مذ-مت قرار دے دیا

فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون اسلام پر زبان درازی کرکے اپنی حد سے تجاوز کررہے ہیں، یہ بیان بد-تمیزی سے بڑھ کر اشت-عال انگی-زی ہے۔ ان کے بیانات دنیا بھر میں مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بن رہے ہیں: رجب طیب اردوان

انقرہ( 6 اکتوبر2020ء) ترک صدر طیب اردوان نے فرانسیسی صدر کے اسلام مخالف بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ترک صدرنے دارالحکومت انقرہ میں ایک تقریب کے دوران یورپی ملک فرانس کے سیاستدانوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ طیب اردوان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون اسلام پر زبان درازی کرکے اپنی حد سے تجاوز کررہے ہیں، یہ بیان بدتمیزی سے بڑھ کر اشتعال انگیزی ہے۔

ان کے بیانات دنیا بھر میں مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بن رہے ہیں۔ترک صدر نے کہا کہ مغربی ممالک کی حکومتیں نسل پرستی اور اسلام دشمنی کی سرپرستی کررہی ہیں اور یہ عمل ان کے اپنے معاشرے کیلئے کسی صورت ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک کے سیاستدان اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے مسلم دشمنی کو استعمال کررہے ہیں۔ یورپ میں اسلاموفو-بیا ایسے سیاستدانوں کی وجہ سے پھیل رہا ہے۔ اسلام امن کا دین ہے، یورپی شد-ت پسند سیاستدان اسلام کو بدنام کررہے ہیں۔ ترک صدر نے فرانسیسی صدر سے ذمہ دار شخصیت کی حیثیت سے کام کرنے کی امید رکھتے ہوئے کہا کہ فرانس کے صدر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور مسلمانوں کے خلاف بیانات سے پرہیز کریں۔ انہوں نے کہا کہ فرانس مسلمان خواتین کے حجاب پر پابندی کے فیصلے کو بھی واپس لے۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے ملک میں خواتین پر حجاب پہننے کی پابندی کو نجی شعبے میں بھی لاگو کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اپنے بیان میں فرانسیسی صدر نے کہا تھا کہ وہ ’فرانس میں اسلام کو بیرونی اثرات سے آزاد کریں گے‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دنیا بھر میں اسلام بحران کا شکار ہے، ہم اسکولز پر سخت نگرانی اور مساجد کو ہونے والی غیر ملکی فنڈنگ کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کریں گے‘۔واضح رہے کہ فرانس کے صدر کے بیانات پر تمام امت مسلمہ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے البتہ ترک صدر کے علاوہ کسی مسلمان لیڈر کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *