نواز شریف پر غداری کا مقدمہ! تھانہ شاہدرہ میں گرفتاری دینے کون پہنچ گیا؟ پولیس کا گرفتاری ڈالنے سے انکار

لاہور (نیوز ڈیسک) ن لیگی رہنما بغاوت کیس میں گرفتاری دینے تھانے پہنچ گئے،پولیس نے گرفتاری دینے دے انکار کر دیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما بغاوت کے مقدمے میں گرفتاری دینے کے لیے تھانہ شاہدرہ لاہور پہنچ گئے۔مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر،ن لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطااللہ تارڑ،ایم این

اے ملک ریاض اشتعاال انگیز تقاریر اور بغاوت کیس میں گرفتاری دینے تھانہ شاہدرہ پہنچ گئے،تھانے میں باہر لیگی کارکنوں نے شدید نعرے بازی کی،لیگی رہنماؤں نے ایس ایچ او شاہدرہ سے ملاقات کی اور کہا ہکم یہاں خود آئے ہیں۔اگر گرفتار کرنا ہے تو ہم حاضر ہیں۔اس مقدمے کی کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔جس نے مقدمہ درج کروایا وہ خود پی ٹی آئی کا ورکر ہے۔سابق گورنر سندھ محمد زبیر کا کہنا ہے کہ ایک پرائیویٹ شخص کے کہنے پر 3 سابق جرنیلوں،دو سابق وزرائے اعظم پر بغاوت کا مقدمہ درج کر دیا گیا ان کی حب الوطنی پر حملہ کیا گیا۔انہوں نے کہا یہ کیس حکومت کی آشیر بار کے بغیر درج نہیں ہو سکتا۔مدعی گھر سے غائب ہے۔مقدمے کی تفصیلات لینے اور گرفتاری کے لیے خود کو پیش کیا۔ہم نے کہا کہ اگر گرفتار کرنا ہے تو حاضر ہیں۔ایس ایچ او زاہد رندھاوا کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج ہو گیا ہے۔اس کا مجھ سے تعلق نہیں،ہمارے پاس درخواست آئی تو مقدمہ درج کیا۔پولیس میرٹ پر تفتیش کرے گی۔مجھے یہاں تعینات ہوئے دو دن ہوئے ہیں۔مجھ سے پہلے مقدمہ درج ہوا۔اعلیٰ حکام کو کہیں گے کہ اس پر بورڈ بنایا جائے۔پراسیکیوشن ٹیم اس کیس کا قانونی جائزہ لے گی۔اس کیس میں قانونی تقاضوں کو پورا کیا جائے گا۔واضح رہے کہ بدر رشید وہ شہری ہے جس نے نواز شریف سمیت سابق 3 جرنیلوں کے خلاف بھی مقدمہ درج کروایا تھا۔ تاہم نواز شریف کے خلاف بغاوت کے مقدمے کا مدعی خود کریمنل ریکارڈ یافتہ نکلا۔ مدعی بدر رشید پر اقدام قتل، ناجائز اسلحہ کار اور سرکار میں مداخلت کے مقدمات درج ہیں۔پولیس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بدر رشید کے خلاف اقدام قتل کے مقدمات شاہدرہ میں درج ہوئے ہیں۔ ناجائز اسلحہ کا مقدمہ تھانہ شرقپور میں درج ہوا۔کار سرکار میں مداخلت اور پولیس سے دست درازی کا مقدمہ پرانی انار کلی میں درج ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *