کہاں آیت اللہ خمینی اور کہاں یہ نہاری کھانے والا۔۔۔!!! وزیراعظم عمران خان نے (ن)لیگ کے حوالے سے قوم کی آنکھیں کھول دیں

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم کی قائد ن لیگ پر کھل کر تنقید، کہتے ہیں ایران کا آیت اللہ خمینی نواز شریف کی طرح ملک سے نہیں بھاگا تھا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جمعہ کے روز اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کہاں آیت اللہ خمینی

اور کہاں یہ نہاری کھانے والا، نواز شریف کی طرح خمینی ملک سے بھاگا نہیں تھا، اس کیلئے ہیلی کاپٹر پر لاہور سے نہاری نہیں آتی تھی۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے وزیر کے ایک بھائی ہیں انہوں نے ٹی وی پروگرام میں نواز شریف کو آیت اللہ خمینی سے ملادیا، کہتا ہے کہ آیت اللہ خمینی بھی ملک سے باہر گیا تھا تاہم میں سوچتا ہوں کہ اس طرح کیا لوگوں کو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے کہ خمینی باہر گیا تھا، آیت اللہ خمینی کو زبردستی بندوق کی نوک پر باہر بھیجا گیا تھا جبکہ یہاں منتیں کرکے باہر چلے گئے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری کابینہ کا اجلاس ہورہا تھا، ہمیں ایک عدالت نے کہا کہ نواز شریف کو کچھ ہوگیا تو حکومت ذمہ دار ہوگی، اب عدالت کا بھی احترام کرتے ہیں، کابینہ کا 6 گھنٹے کا اجلاس ہوا جہاں ڈاکٹر بیٹھے ہوئے ہیں اور بیماریاں بتارہے ہیں، ہم سب پریشان ہیں ایک آدمی کو اتنی ساری بیماریاں ہوسکتی ہیں۔عمران خان نے کہاکہ جب اس کی ساری بیماری بتائی گئیں تو ہماری انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری کی آنکھوں میں آنسو آگئے، اگر شیریں مزاری کی آنکھوں میں آنسو آئیں تو سوچیں کس طرح کی بیماریاں ہمیں بتائی گئی ہوں گی، ہمیں خوف آگیا کہ یہ جہاز کی سیڑھیوں پر بھی چڑھ سکے گا یا نہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ جیسے لندن کی ہوا لگی ہے ایک اور نواز شریف نکلا ہے اور زبیر اس کا مقابلہ آیت اللہ خمینی سے کررہے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان کیلئے یہ وقت

بڑا فیصلہ کن ہے، یہ جو بے روزگار سیاست دان اکٹھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ قانون کی بالادستی نہیں مانتے، اصل میں کہتے ہیں کہ ہم قانون سے بالاتر ہیں اور جواب دہ نہیں ہیں، ہمیں کوئی ہاتھ نہ لگائے اور اگر کسی نے ہاتھ لگایا تو وہ انتقامی کارروائی ہوگی۔عمران خان نے کہا کہ جے آئی ٹی کے پورے دو سال بعد عدالت فیصلہ کرتی ہے اور اگلا کہتا ہے مجھے کیوں نکالا اور پاکستان کے سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مانتا کہتا کہ مجھے کیوں نکالا اور اس فیصلے کو نہیں مانتے اور اس کا خاندان بھی نہیں مانتا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا قانون ہمارے لیے نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ یہ دیکھیں کہ 30 سال پہلے ان کے پاس کیا تھا اور آج کیا ہے، اگر یہ کلاس سمجھتی ہے کہ سڑکوں میں نکل کر عمران خان کو بلیک میل کریں گے تو یہ سارے مل کر دو سال بھی جلسے کریں گے تو ہمارا ایک جلسہ ان سے زیادہ تھا۔انہوں نے کہا کہ لوگ کسی مقصد اور نظریے، ظلم کا مقابلہ کرنے کے لیے نکلتے ہیں، لوگ کسی کی چوری بچانے کیلئے نہیں نکلتے، خود لندن میں بیٹھا ہوا ہے اور کارکنوں کو کہہ رہا ہے کہ سڑکوں پر نکلیں لیکن ان کو قیمے کے نان بھی کھلائیں تب بھی نہیں نکلیں گے۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ پیسہ بھی چلانے کی کوشش کریں گے لیکن میں ان کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ پیسے لو، قیمے کے نان بھی کھائیں اور آرام سے گھر بیٹھیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *