کس نامور پاکستانی شخصیت نے زندگی کے آخری لمحات میں یہ الفاظ کہے ؟ جانیے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) جب دنیا آپ کے سامنے بکھر رہی ہو، تمام عمر جس موت کو جھٹلایا، وہ سب سے بڑی حقیقت بن کر آپ کے سامنے کھڑی ہو، تو انسان کے منہ سے جو الفاظ نکلتے ہیں، وہ اس کی پوری زندگی کا لب لباب ہو سکتے ہیں۔جب مشہور لوگ مرتے ہیں۔

تو ان کے آخری الفاظ تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایک شخص کے آخری الفاظ انتہائی چونکا دینے والے بھی ہو سکتے ہیں، جس میں اس شخص کے مجموعی احساسات کی ایک جھلک ملتی ہے۔ان میں سے کچھ زندگی کے آخری سفر پر روانہ ہونے سے پہلےایک سبق چھوڑ جانے کی آرزو کرتے ہیں تو کچھ نڈر لوگ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی تقدیر کو آزماتے ہیں اور کسی معجزے کے منتظر رہتے ہیں۔دنیا سے رخصت ہونے والے مشہور لوگوں کے آخری الفاظ کیا تھے، آپ کو بتاتے ہیں۔قائداعظم: قائداعظم کے معالج پروفیسر ڈاکٹر الہیٰ بخش نے اپنی کتاب میں تحریر کیا ہے کہ بانی پاکستان کے آخری الفاظ ’میں اب نہیں‘ تھے، جس کے آدھے گھنٹے بعد وہ اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئےلیاقت علی خان۔ مختلف رپورٹس کے مطابق ان کے آخری الفاظ ’اللّٰہ پاکستان کی حفاظت کرے‘ تھے۔ سابق وزیر اعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو:پاکستان کی سابقہ وزیر اعظم بینظیر بھٹو اپنے اوپر اٹیک ہونے سے قبل ’جئے بھٹو‘ کے الفاظ ادا کئے تھے۔امجد صابری:غلام فرید صابری کے فرزند امجد صابری قوال نے زندگی کے آخری ایام میں چلّا کر کہا کہ ’کیوں میری جان لینا چاہتے ہو، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔‘عرفان خان:29 اپریل کی صبح بالی ووڈ کے نامور اداکار عرفان خان اپنے چاہنے والوں کو اداس چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے دنیا سے رخصت ہوگئے، اہلیہ کے مطابق ’دیکھو اماں آئی ہیں، وہ میرے برابر میں بیٹھی ہیں، اماں مجھے لینے آئی ہیں‘ مرنے سے قبل عرفان خان کے آخری الفاظ تھے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *