اس ملاقات میں انہوں نے پنڈی بوائے کو کیا بتایا تھا ؟ چند تہلکہ خیز انکشافات

‘لاہور (ویب ڈیسک) یہ ان دنوں کی بات ہے جب ذوالفقار علی بھٹو اعلان تاشقند کے بعد وزرات خارجہ سے مستعفی ہو چکے تھے اور اپنی علیحدہ جماعت پاکستان پیپلزپارٹی بنا چکے تھے اس دوران شیخ رشید ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ میں زیر تعلیم تھے۔ وہ اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ بھٹو ایوب کے خلاف

نامور صحافی ریاض سہیل بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ مہم شروع کیے ہوئے تھے اور سات نومبر 1967 کو معلوم ہوا کہ وہ پشاور سے راولپنڈی آ رہے ہیں، انھوں نے ان کے استقبال کا فیصلہ کیا لیکن ان کی طلبہ یونین نے ساتھ چھوڑ دیا۔اسی روز انسٹیٹوٹ اور جھنگی سیداں میں تقریر کی لیکن بھٹو دیر سے پہنچے، انھوں نے مختصر خطاب کیا اور روالپنڈی چلے گئے جہاں پہلے ہی حالات خراب ہو رہے تھے۔ وہ واپس جلوس لے کر انسٹیٹیوٹ کے گیٹ پر پہنچے تو پولیس سے مڈ بھیڑ ہو گئی اس وقت بھٹو جا چکے تھے اور پولیس نے مظاہرین پر بلاوجہ دھاوا بول دیا اور ان کے ایک ساتھی جان بحق ہو گئے۔’لڑکے جمع ہو گئے اور انھوں نے مجھے پرل کانٹینٹل بھجوایا تاکہ میں ذوالفقار علی بھٹو کو لے کر واپس آؤں اور وہ یہ ظلم دیکھیں۔جب میں وہاں پہنچا تو پہلے ہی گورڈن کالج کے طلبہ آئے ہوئے تھے اور انھوں نے بھٹو سے ملاقات کی تھی۔ ایسے میں وہاں پولیس پہنچ چکی گئی اور طلبہ کو منشتر کرنے کے لیے چارج کیا جا رہا تھا اور بعد میں آنسو گیس بھی چھوڑی گئی۔’میں جب بھٹو کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ نیا سوٹ پہن کر کنگھی کر رہے تھے میں جذبات میں روتے ہوئے انھیں روداد سنا رہا تھا تو انھوں نے مجھے گلے سے لگایا اور کہا ضرور چلوں گا مگر وہ وقت نہ آیا۔‘شیخ رشید احمد اپنے سیاسی سفر میں وزرات اطلاعات و نشریات کے وفاقی وزیر بھی رہے چکے ہیں

انھوں نے زمانہ طالب علمی سے بڑے میڈیا ہاؤسز اور نامور صحافیوں سے تعلقات استوار رکھے ہیں۔اپنی یادداشتوں میں وہ لکھتے ہیں کہ بھٹو کا جلسہ پلٹنے کے بعد سارے پاکستان میں سیاسی شخصیات سے ان کا تعارف ہو چکا تھا انھوں نے اخراجات پورے کرنے کے لیے شہر کے مل مالکان سے چندہ لینا بھی شروع کردیا اکثر مالکان کے بیٹے گورڈن کالج میں پڑھتے تھے۔ یوں پہلی تبدیلی یہ آئی کہ وہ سائیکل سے 93 ویسپا سکوٹر پر شفٹ ہو گئے۔’شاید ہی کوئی رات ایسی گزرتی ہو جب میں گوالمنڈی کے ایک اخبار کے دفتر میں شورش ملک سے ملنے نہ جاتا۔ جب اخبار کی کاپی جاتی تو رات ڈیڑھ بجے ان کے ساتھ واپس آ جاتا اس طرح ایک دو دن چھوڑ کر نوائے وقت میں بھی شیخ اکرام کے پاس گپ شپ لگانے جاتا۔‘’اس سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اخبار میں خبر لگ جاتی تھی اور دوسرا خبروں کا سب سے پہلے پتا چل جاتا تھا۔ شورش کشمیری مرحوم نے مجھے مجید نظامی، زیڈ اے سلہری اور عبداللہ ملک سے متعارف کروایا۔ اس طرح میں مجیب الرحمان، الطاف قریشی اور صلاح الدین تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔‘شیخ رشید کے سیاسی فیصلوں میں صحافی اثر رسوخ بھی نظر آتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ کالج کے دوران مجیب الرحمان شامی کے توسط سے وہ جاوید ہاشمی اور حفیظ خان کے ساتھ ایک ہی دن تحریک استقلال میں شامل ہوئے اور طے یہ پایا کہ تینوں اشخاص کو تحریک استقلال کی طرف سے صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ دیا جائے گا۔

تاہم جب خاکسار تحریک قومی اتحاد میں شامل ہوئی اور ٹکٹ تقسیم ہوئے تو انھیں پنڈی سے ٹکٹ نہیں مل سکا۔شیخ رشید اپنے سیاسی سفر میں چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی کے قریب رہے ہیں اور جس حکومت میں یہ دونوں شامل رہے شیخ رشید بھی اس کا حصہ بنے۔اپنی یادداشتوں میں اس تعلق کی بنیاد بتاتے ہوئے شیخ رشید لکھتے ہیں کہ جب انھوں نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کو منظم کیا تو گجرات میں ان کی چوہدری ظہور الٰہی سے شناسائی ہوئی اور وہ ان کے سیاسی مددگار ثابت ہوئے۔’چوہدری ظہور نے ہتھیار کا لائسنس بنوا دیا اور گھر فون لگوایا جس کے اخراجات وہ برداشت کرتے تھے، یوں ساری سیاست ان سے وابستہ کرلی۔‘شیخ رشید لکھتے ہیں کہ سنہ 1977 کے انتخابات میں ظہور الٰہی کے کڑیاں والا جلسے میں تصادم ہو گیا اور انھوں نے اسی ہتھیار سے مقابلہ کیا اور اسی دوران ایک شخص جان بحق ہو گیا جس کے بعد انھیں اس کیس میں گرفتار بھی کر لیا گیا اور پھر ان کی رہائی اس وقت عمل میں آئی جب مارشل لا لاگو ہوا اور انھیں ضمات پر رہائی ملی۔شیخ رشید اسمبلی میں پہنچنے کے لیے کئی سال تگ و دو میں رہے لیکن انھیں ایوان میں داخل ہونے کا موقع مارشل لا میں غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ملا۔وہ لکھتے ہیں کہ وہ کسی جماعت کے عہدیدار نہ تھے لیکن ان کے کاغذات مسترد کر دیے گئے اور جب انھوں نے پریزائیڈنگ افسر سے شکوہ کیا تو انھوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ سمجھدار ہیں اوپر رابطہ کریں۔

’پروفیسر واثق سے کہا کہ کسی ذمہ دار آدمی سے رابطہ کرائیں تو انھوں نے اپنے شاگرد کرنل ترمذی سے رابطہ کیا۔ کرنل ترمذی نے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی جنرل اختر عبدالرحمان سے ملاقات کا بندوبست کر دیا۔’پہلی ہی ملاقات میں ایسا لگا کہ میری گفتگو عبدالرحمان کو متاثر کر گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ جنرل ضیاالحق سے بات کریں گے، جنرل اختر عبدالرحمان نے ضیاالحق سے میرے کونسلر کا انتخاب لڑنے کی اجازت لی۔‘شیخ رشید اپنے تعلقات کے بارے میں مزید لکھتے ہیں کہ الیکشن میں شرکت دلانے کی وجہ سے اب ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی جنرل اختر عبدالرحمان سے ان کا رابطہ ہو گیا تھا وہ ان کی رائے کو اہمیت دیتے اور اکثر انھیں ’رومیل آف پالیٹکس‘ کے نام سے یاد کرتے تھے۔’جنرل عبدالرحمان کی کوشش تھی کہ میں جنرل ضیاالحق سے ملاقات کروں ایک بار ملاقات طے ہو گئی ہاتھ ملاتے ہوئے اپنا تعارف کرایا تو انھوں نے ایک ہی جملہ کہا کہ تعارف کی ضرورت نہیں۔‘’دوسری بار ملاقات ان کی وفات سے تین روز قبل ہوئی جس سے مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔‘شیخ رشید ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کی بیٹی بینظیر بھٹو کے بھی مخالف رہے اس مخالفت میں وہ ان پر سیاسی تنقید کے ساتھ ذاتی تنقید بھی کرتے رہے جس کا ذکر خود ان کی یادداشتوں کی کتاب میں سے ملتا ہے۔ پرویز مشرف حکومت میں وہ وفاقی وزیر تھے جب بینظیر بھٹو کی وطن واپسی پر مذاکرات جاری تھے۔شیخ رشید لکھتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات کے محل میں بینظیر بھٹو کے ساتھ مذاکرات میں طارق عزیز اور لیفٹیننٹ جنرل حامد شریک تھے جنرل کیانی کی تصدیق نہیں ہوئی لیکن بینظیر بھٹو کی خواہش تھی کہ وہ شامل ہوں۔

’طارق عزیز ایک ایسی حکومت بنانا چاہتے تھے جس کا صدر پرویز مشرف اور وزیراعظم بینظیر بھٹو ہوں اس اثنا میں طارق عزیز نے ایم کیو ایم کے الطاف حسین سے بھی ملاقات کی تھی۔ ساری صدارت طارق عزیز چلا رہے تھے اور انھیں جنرل پرویز مشرف کا اعتماد حاصل تھا۔‘انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’بینظیر بھٹو کی واپسی میں طارق عزیز نے کلیدی کردار ادا کیا این آر او طے ہو چکا تھا بینظیر بھٹو سے تمام مقدمات واپس لے لیے گئے۔شیخ رشید کے مطابق چوہدری (شجاعت اور پرویز الٰہی) این آر او کے حامی نہیں تھے لیکن وہ صدر مشرف اور طارق عزیز کے سامنے بول نہیں سکتے تھے۔ بعد میں یہ ثابت ہوا کہ چوہدری شجاعت درست کہتے تھے طارق عزیز کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ اسی دوران نواز شریف نے پاکستان آنے کی کوشش کی لیکن ان کو واپس بھیج دیا گیا۔’سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ کے ساتھ ملاقاتوں میں، میں صدر مشرف کے ساتھ ہوتا تھا بادشاہ عبداللہ نے ایک بات بڑی واضح کی تھی کہ اگر بینظیر بھٹو آئیں تو پھر میں نواز شریف کو یہاں روک نہیں سکوں گا۔ جنرل مشرف نے پوری کوشش کی کہ بینظیر کے ملک میں آ جانے کے بعد ایسے حالات پیدا ہوں کہ نواز شریف کو نہ آنے دیا جائے۔‘شیخ رشید احمد لکھتے ہیں کہ صدر مشرف کا خیال تھا کہ اگلی حکومت وہ بینظیر بھٹو کے ساتھ کر سکتے ہیں یہی غلط فہمی ان کے زوال کا باعث بنی۔’جب مشرف نے الیکشن کی بات کی تو وجیہ الدین اور امین فہیم ان کے مقابل آ گئے۔ مشرف نے کہا کہ جس دن وہ حلف اٹھائیں گے وہ وردی اتار دیں گے لیکن بینظیر بھٹو ضد پر اڑی رہیں۔‘یاد رہے کہ پرویز مشرف نے 27 نومبر 2007 کو فوجی منصب چھوڑ دیا تھا اور اگلے ہی مہینے بینظیر بھٹو ایک بلاسٹ میں اللہ کو پیاری ہو گئی تھیں۔بینظیر بھٹو کی موت کا واقعہ شیخ رشید کے شہر راولپنڈی میں پیش آیا، وہ لکھتے ہیں کہ بینظیر کا خیال تھا کہ وہ 27 دسمبر کا جلسہ ہر صورت میں کریں گی چاہے اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ بینظیر بھٹو کی موت کے بعد میڈیکل رپورٹ آصف زرداری کے کہنے کی وجہ سے ملتوی کی گئی اور یہ بات ان کی موجودگی میں ہوئی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *