نوازشریف بھارت کا ایجنڈا لے کرچل رہے ہیں

نوازشریف بھارت کا ایجنڈا لے کرچل رہے ہیں. عمران خان

سابق وزیراعظم فوج کو پنجاب پولیس بناناچاہتے تھے . وزیراعظم کا تقریب سے خطاب

اسلام آباد( ۔10 اکتوبر ۔2020ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نوازشریف کا عدلیہ، فوج اور سب کو برا بھلا کہنے کا مقصد ہے کہ کسی طرح ان کو این آر او مل جائے مگر میں کہتا ہوں جس دن ان کو این آر او مل گیا اس دن تباہی ہوگی اور پاکستان نیچے چلا جائے گا، قانون کی بالادستی ختم ہوجائے گی. اسلام آباد میں آل پاکستان انصاف لائرز فورم کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ وتعالی عنہ کا قول ہے کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ناانصافی اور ظلم کا نظام نہیں چل سکتا.

عمران خان نے کہا کہ میں انتخابات سے پہلے مدینے کی ریاست کا ذکر اس لیے نہیں کرتا تھا کیونکہ یہ نہ سمجھا جائے کہ میں جیت کے لیے یہ بات کر رہا ہوں لیکن حکومت میں آنے کے بعد بار بار اس کا ذکر کرتا ہوں انہوں نے کہا کہ وکلا کے اوپر بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ مدینہ کی ریاست کی بنیاد قانون پر قائم تھی اور کوئی قانون سے اوپر نہیں تھا اور یہ معاشرے کی بنیاد ہے.

انہوں نے کہا کہ جتنے مرضی جلسے کرنا ہے کریں لیکن جہاں قانون توڑا آپ سیدھے جیل میں جائیں گے اور اب وی آئی پی جیل نہیں بلکہ جہاں غریب مجرم ہوتا ہے وہاں جائیں گے وزیر اعظم نے کہا کہ آل پاکستان انصاف لائرز فورم کے سارے وکلا کو صحت کارڈ دلواﺅں گا کیونکہ زیادہ تر وکیل مشکل میں ہوتے ہیں نیا پاکستان ہاﺅسنگ کے تحت بھی وکلا کی مدد کریں گے انہوں نے کہا کہ معاہدوں پر جب دستخط ہوتے ہیں تو وکیل موجود ہوتے ہیں اور یہ ساری دنیا میں ہوتا ہے، اس سے وکلا کے لیے آمدنی بھی ہوتی ہے تو یہ تینوں چیزیں کریں گے.وزیراعظم عمران خان نے سابق وزیراعظم نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھارت کا ایجنڈا لے کر چلنے والے لوگ یہ ہیں، آئی ایس آئی کو ان کی چوری کا پتہ ہوتا ہے اس لیے ہر آرمی چیف سے ان کو مسئلہ ہے کیونکہ یہ فوج کو پنجاب پولیس بنانا چاہتے تھے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک دوسروں کا مقابلہ نہیں کرسکتا جب تک قانون کی بالادستی یا قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی.وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ وقت بڑا فیصلہ کن ہے یہ جو بے روزگار سیاست دان اکٹھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہ قانون کی بالادستی نہیں مانتے، اصل میں کہتے ہیں کہ ہم قانون سے بالاتر ہیں اور جواب دہ نہیں ہیں، ہمیں کوئی ہاتھ نہ لگائے اور اگر کسی نے ہاتھ لگایا تو وہ انتقامی کارروائی ہوگی. عمران خان نے کہا کہ جے آئی ٹی کے پورے دو سال بعد عدالت فیصلہ کرتی ہے اور اگلا کہتا ہے مجھے کیوں نکالا اور پاکستان کے سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مانتا، کہتا ہے کہ مجھے کیوں نکالا اور اس فیصلے کو نہیں مانتے اور اس کا خاندان بھی نہیں مانتا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا قانون ہمارے لیے نہیں ہے.انہوں نے کہا کہ یہ دیکھیں کہ 30 سال پہلے ان کے پاس کیا تھا اور آج کیا ہے، اگر یہ کلاس سمجھتی ہے کہ سڑکوں پر نکل کر عمران خان کو بلیک میل کریں گے تو یہ سارے مل کر دو سال بھی جلسے کریں گے تو ہمارا ایک جلسہ ان سے زیادہ تھا انہوں نے کہا کہ لوگ کسی مقصد اور نظریے، ظلم کا مقابلہ کرنے کے لیے نکلتے ہیں، لوگ کسی کی چوری بچانے کے لیے نہیں نکلتے، خود لندن میں بیٹھا ہوا ہے اور کارکنوں کو کہہ رہا ہے کہ سڑکوں پر نکلیں لیکن ان کو قیمے کے نان بھی کھلائیں تب بھی نہیں نکلیں گے، مجھے معلوم ہے کہ وہ پیسہ بھی چلانے کی کوشش کریں گے لیکن میں ان کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ پیسے لو، قیمے کے نان بھی کھائیں اور آرام سے گھر بیٹھیں.

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *