یورپی یونین نے پاکستان کو کروڑوں روپے دینے کا اعلان کردیا ۔۔۔ یہ پیسے کس مد میں دیے جائیں گے؟ جانیے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) یورپی یونین نے اگست اور ستمبر کے درمیان پاکستان کے بڑے حصے کو متاثر کرنے والی تباہ کن بارشوں، سیلاب سے بحالی کے لیے 22 کروڑ روپے سے زائد (11 لاکھ 50 ہزار یورو) رقم مختص کردی ہے۔دارالحکومت میں یورپی یونین کے مشن کے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ فنڈز سے متاثرہ صوبوں میں ایک لاکھ 75 ہزار سے زیادہ

ضرورت مند افراد کی مدد کی جائے گی، جبکہ مختلف عطیات دہندگان کی مدد سے 4 لاکھ 20 ہزار افراد کو سہولت فراہم کی جائے گی۔اسلام آباد میں یورپی یونین سول پروٹیکشن اور ہیومینٹیرین ایڈ آپریشن کے سربراہ برنارڈ جیسپرز- فیجر کا کہنا تھا کہ ‘ہم پاکستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں خاص طور پر ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے سیلاب کی وجہ سے شدید نقصان اٹھایا’۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘یورپی یونین کے تعاون سے میدان میں موجود ہمارے شراکت دار اپنی کارروائیوں کو بڑھانے اور ضرورت مندوں کو جلد از جلد دوبارہ ان کے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے مدد فراہم کریں گے‘۔اس امداد سے اقوام متحدہ کے 2015 میں بننے والے کنسورشیم ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ای ایف) کو مدد فراہم ہوگی۔یہ کنسورشیم مل کر کام کرنے والی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں، انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ پر مشتمل ہے اور امداد سے مون سون بارشوں اور سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں کی معاونت کی جائے گیورلڈ فوڈ پروگرام میں خوراک کی ہنگامی بنیادوں پر تقسیم، نقد امداد، پناہ گاہیں، صاف پانی کی فراہمی کے لیے درکار اشیا اور دیگر اہم امدادی اشیا شامل ہیں۔برنارڈ جیسپرز- فیجر کا کہنا تھا کہ سیلاب زدگان تک صفائی ستھرائی کی سہولیات اور حفظان صحت کے اصولوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے، معذور افراد اور وہ گھر جن کی کفالت خواتین کرتی ہیں ان پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔مذکورہ فنڈ یورپی یونین کے اکیوٹ لارج ایمرجنسی ریسپانس ٹول (الرٹ) کا حصہ ہے جس کے ذریعے 10 لاکھ یورو کی رقم دی جائے گی، اس کے علاوہ یورپی یونین ڈزاسٹر ریلیف ایمرجنسی فنڈ (ڈی آر ای ایف)، انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) کے تحت بھی ڈیڑھ لاکھ یوروز کی امدادی رقم دے چکا ہے۔واضح رہے کہ اگست میں پاکستان میں مون سون بارشوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا تھا جس کے باعث ملک کے چاروںصوبوں میں سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی، جس میں 4 سو سے زائد لوگوں کی جانیں گئیں اور 20 لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق سیلاب نے ایک لاکھ 34 ہزار گھروں کو مکمل تباہ اور دیگر ایک لاکھ 70 ہزار گھروں کو نقصان پہنچایا تھا۔سیلاب سے فصلیں تباہ اور مویشی ہلاک ہوگئے جبکہ کمیونٹی کے لیے خوراک کے ذخیرے اور معاش کو بھی نقصان پہنچا تھا، نکاسی نہ ہونے کے باعث کھیتوں اور دیہاتوں میں کئی ہفتوں تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کچھ علاقوں میں آج بھی صحت کی سہولیات میسر نہیں ہیں، سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ صوبہ سندھ کا جنوبی حصہ ہے جہاں صحت کی سہولیات کی اشد ضرورت ہے۔یورپی یونین 2016 سے پاکستان میں انسانی خدمت کے لیے مختلف شعبہ جات میں 8 کروڑ 20 لاکھ یورو کی مدد کر چکا ہے اور مذکورہ رقم کو خصوصی طور پر صحت سے متعلق کام کرنے والے افراد کی حفاظت، تعلیم، بنیادی رہائش، خوراک، صاف پانی اور حفظان صحت جیسی سہولیات پر خرچ کیا گیا۔یورپی یونین کی امداد تنازعات اور خانہ جنگی سے متاثرہ افراد پر بھی خرچ کی گئی جن میں افغان مہاجرین اور ملک میں اندرونی طور پر نقل مکانی کرنے والے بھی شامل ہیں۔علاوہ ازیں اس رقم کو کورونا وائرس کی وبا سے متاثر ہونے والی برادریوں، ماحولیاتی آلودگی سے پیدا ہونے والے حالات اور قدرتی آفات سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھی خرچ کیا گیا۔یورپی کمیشن نے انسانی خدمات کے لیے فنڈ فراہم کرنے کے حوالے سے انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائیٹیز (ڈی آر ای ایف) کے ساتھ بھی 30 لاکھ یورو کا معاہدہ کیا ہے اور یہ فنڈ کمیشن کے فیڈریشن ڈزاسٹر ریلیف ایمرجنسی فنڈ (ڈی آر ای ایف) میں معاون ہوگا۔
یاد رہے کہ ڈی آر ای ایف کے تحت دیے جانے والے فنڈز چھوٹے پیمانے پر ہونے والی تباہیوں سے متاثر ہونے والے افراد کی معاونت کے لیے فراہم کیے جاتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.