اچھا تو یہ بات تھی ۔۔۔!!! پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلتے نکلتے کیوں رہ گیا ؟ بڑا پول کھول دیا گیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے تعاون کے باوجود پاکستان کو گرے لسٹ نہیں نکلوا یا گیا،حکومت کا قصہ اب ختم ہونے جا رہا ہے،لوگ عمران خان کے کنٹرول میں نہیں ،رجنوں ہمارے ساتھ رابطہ کررہے ہیں۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال

کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں بولنا میرا حق ہے، حکومت کے کہنے پر میرا مائیک نہ کھولا جائے، سب سے پہلے اپوزیشن کی طرف سے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف مشترکہ قرارداد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ حکومتی رویہ برداشت کررہے ہیں، اس کا بھی کم وقت ہے۔ باتیں ختم ہونے والی ہیں، قصہ لپیٹا جارہا ہے۔ حکومت کا قصہ اب ختم ہونے جا رہا ہے۔ہم اس کرسی سے درخواست کرتے ہیں کہ ننگا ہوکر حمایت نہ کی جائے۔ اسپیکر کے اوپر حلف لازم کردیتا ہے کہ اپوزیشن کو بولنے کا حق دیا جائے، یہاں بیٹھے ارکان کروڑوں ووٹ لے کرآئے ہیں، آپ نے جس طرح حکومت بنائی ، آپ کو تو قانون سازی کیلئے بھی سلیکٹرز کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔آپ توخود قانون سازی خود نہیں کرسکتے۔ فیٹف قانون میں جو ہوا، سب کو پتا ہے، ہمارے تعاون کے باوجود پاکستان کو گرے لسٹ نہیں نکالا گیا۔ان کے لیڈر کے پلے ہی کچھ نہیں ہے۔یہ لوگ اس کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ درجنوں ہمارے ساتھ رابطہ کررہے ہیں، حکومتیں ایسی نہیں چلتیں، اس کے لیے برداشت ہونی چاہیے۔ ہم مشترکہ متفقہ ایک درخواست دے رہے ہیں۔ کراچی میں سندھ حکومت کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا، آئی جی کو وفاق نے اٹھایا۔ مریم نوازکے کمرے کا دروازہ توڑا گیا۔ آئین نے وفاق اور صوبوں کو جوڑا ہوا ہے، اگر آئین پامال ہوگا تو وفاق میں دراڑیں آئیں گے۔ اسپیکر کی کرسی کاتقاضا ہے کہ ہاؤس کو متوازن چلائیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.