مسلم لیگ (ن) میں دراڑ اور عمران خان کا نیا سیاسی جانشین ۔۔۔ پیشگوئی پر مبنی خصوصی سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) پیپلز ڈیموکریٹک الائنس کے دنوں کی بات ہے۔ ہم نے پارلیمنٹ کے سامنے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا تھا۔جس میں محترمہ بینظیر بھٹو، ائر مارشل اصغر خان، اورمیں بھی تحریک جعفریہ کی نمائندگی کے لئے موجود تھا۔ہم نے فیصلہ کیا کہ اس وقت کی ٹرائیکا کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کی جائیں۔

نامور کالم نگار سید منیر حسین گیلانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے فیصلہ کیا کہ ہم نواز شریف سے کہتے ہیں کہ وہ صدر مملکت کے پارلیمنٹ توڑنے کے اختیار 58(2b)کے خاتمے کی بات کریں ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔ بہرحال نواز شریف نے یہ کام نہ کیا، کیونکہ وزیراعظم اور صدر غلام اسحاق خان کے درمیان دوریاں پیدا ہونے کا امکان یقینی تھا۔ جب اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے تو ہم نے حکمت عملی تبدیل کی اور فیصلہ کیا کہ اب نواز شریف کو ٹارگٹ کیا جائے اور صدر کو اس تنقید سے دور رکھا جائے۔پھر ہم نے پورے ملک میں احتجاجی جلسے اور لانگ مارچ کئے،جس میں ہم نے نواز شریف کو ہدف تنقید بنایا اور خوب تحریک چلائی۔ آخر ایک وقت آگیا کہ یہ ٹرائیکا ٹوٹ گئی۔اب بھی اسٹیبلشمنٹ کے کسی نہ کسی سطح پر کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی رابطے اور اشارے موجود ہیں کہ گوجرانوالہ کا جلسہ میاں نواز شریف کی تقریر نے لوٹ لیا او ر انہوں نے اداروں کے کردار کو ہدف تنقید بنایا، جبکہ کراچی والے جلسے کی بجائے میاں صاحب کے داما د کیپٹن صفدرکے قائد اعظم کے مزار پر سیاسی نعرے بازی کو زیادہ زیر بحث لایا گیا اور اب تک جاری ہے۔ پھر اس کی گرفتاری کے پس پردہ جو واقعات رونما ہوئے، رونگٹے کھڑے کردینے کے لئے کافی ہیں۔ آرمی چیف جنر ل قمر جاوید باجوہ نے بلاول بھٹو زرداری کو تحقیقات کی یقین دہانی خود کروائی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس سارے واقعہ میں کہاں ہیں؟

انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے فون کرکے یا انہیں طلب کرکے حالات سے آگاہی کیوں نہیں لی؟ اس کی خاموشی کے پیچھے کیا مجبوری یا راز پنہاں ہے؟ جس کا ذکر نہیں کیا جارہا۔یہ سب اپنی جگہ تشویشناک ہے، غور طلب بات یہ ہے کہ ہمیشہ اقتدار کی بندر بانٹ کرنے والوں کے لئے خطرے کی گھنٹی تو یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی چھتری کے نیچے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں سیاست کرنے والی مسلم لیگ(ن) کا بیانیہ بدل گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے بعد اب مسلم لیگ (ن) کی قیاد ت کو بھی غداری کے تمغے دیئے جارہے ہیں۔ نواز شریف کو جیل میں ڈالا گیا۔ہوشیار آدمی ہے، لندن جا بیٹھا۔اس کے خلاف غداری کے مقدمات بھی قائم کئے گئے ہیں اور شاید مزیدبھی ہوں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے اندر پھوٹ ڈالنے کی کوشش بھی آئندہ دنوں میں ہو سکتی ہے۔وزیراعظم عمران خان کا بھی کوئی جانشین سامنے آسکتا ہے۔ یاپھر نظام لپیٹا جاسکتا ہے۔ جس میں بہت کچھ انوکھا بھی ہوسکتا ہے۔ نظام پھر کمزور ہوگا۔لیکن جو کچھ بھی ہوگا، اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے مطابق ہوگا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.