ایاز صادق کو ہر طرف سے گھیر لیا گیا! لیگی رہنماء کو قومی سلامتی کے راز کھولنا مہنگا پڑ گیا، معاملہ قومی اسمبلی کی رُکنیت معطل کرنے تک جا پہنچا

لاہور (نیوز ڈیسک) وائس چیئرمین واسا شیخ امتیاز محمود نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی اسمبلی رکنیت معطل کرنے کی درخواست الیکشن کمیشن کو بھجوا دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وائس چیئرمین واسا شیخ امتیاز محمود نے کہا ہے کہ سابق اسپیکر کے بیان سے عوام میں شدیدغصہ پایا جارہا ہے۔ 27 فروری کو پاک

فضائیہ نے بھارت کا جہاز گرا کر بھارت میں صف ماتم بچھا دی تھی۔پاکستان مخالف بیان دینے کے بعد سردار ایاز صادق اسمبلی رکنیت کے اہل نہیں رہے ۔ انہوں نے کہا کہ سردار ایاز صادق نے آئین کے آرٹیکل 63 کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس کے بعد ان کا رکن اسمبلی رہنا قبول نہیں۔ الیکشن کمیشن ان کی رکنیت معطل کرے۔ درخواست میں کہا گیا کہ کوئی ایسا شخص اسمبلی رکن نہیں رہ سکتا جو ملکی سلامتی کیخلاف بیان دے۔انہوں نے کہا کہ پاک افواج ہمیشہ پاکستان کی حفاظت کے لیے تیار رہتی ہیں، ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والے کیخلاف عوام میں غصہ پایا جاتا ہے ۔شیخ امتیاز محمود کا کہنا تھا کہالیکشن کمیشن کی آج چھٹی تھی جس کے باعث درخواست بذریعہ کوریئر الیکشن کمیشن آفس بھجوائی ہے۔ وائس چیئرمین واسا نے بطور عام شہری درخواست جمع کروائی۔ واضح رہے کہ سردار ایاز صادق کی جانب سے ابھینندن کے متعلق بیان دینے کے بعد ملک بھر میں ان کے مخالفین ان کو غدار قرار دے رہے ہیں ۔ لاہور شہر میں اور سردار ایاز صادق کے گھر کے باہر ان کیخلاف بینرز لگائے گئے ہیں۔ن لیگ کی جانب سے سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے گھر کے باہر مخالفانہ بینرز لگانے کیخلاف مذمتی قرارداد پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرا دی گئی ۔ مسلم لیگ(ن) کی رکن سمیرا کومل کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے گھر کے باہر گھٹیا تحریر پرمبنی بینرز لگانے کی شدید مذمت کرتے ہیں،صوبائی وزیرعلیم خان کی جانب سے ہر حرکت کی ہرگز توقع نہیں کی جاسکتی تھی،علیم خان نے سردار ایاز صادق سے تین مرتبہ انتخابات میں عبرتناک شکست کھانے کی وجہ سے ایسی شرمناک حرکت کی۔یہ حرکت سیاسی کارکنوں کو اشتعال دلانے کی گھنائونی سازش ہے،اشتعال انگیز بینرز فی الفور اتارے جائیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.