’’ پائلٹ کو چھوڑنا ہی تھا تو۔۔۔‘‘ (ن)لیگ کھل کر میدان میں آگئی، ایاز صادق کے بعد احسن اقبال بھی پھٹ پڑے

لاہور(نیوز ڈیسک ) مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت ناکام اور نااہل ہے اوراپنی نااہلی کو چھپانے کیلئے غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹ رہی ہے،ایاز صادق کی تقرری وزیر خارجہ سے متعلق تھی،ایاز صادق کا بیان بالکل درست تھا کہ پائلٹ کو چھوڑنا ہی تھا تو دو سے چار روز انتظار کر لیا جاتا،اختر

مینگل اور ثنا اللہ زہری کے درمیان ایک تنازعہ ہے،حضور کریم ؐکاحکم ہے سچ بولوامانت میں خیانت نہ کرو ہمسائے سے حسن سلوک کرو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں سیرت النبیؐ کانفرنس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس میں ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطا اللہ تارڑ اور مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام نے بھی شرکت کی۔ احسن اقبال نے کہا کہ حکومت اپنی نا لائقی اور نا اہلی کو چھپانے کے لئے غداری کے مقدموں کا سہارا لے رہی ہے،مسلم لیگ (ن)کا بیانیہ پاکستان بچانے کا بیانیہ ہے،ایاز صادق کی تنقید وزیر خارجہ سے متعلق تھی،کسی پاکستانی کو حق نہیں کہ وہ دوسرے پاکستانی کو غداری کا سرٹیفکیٹ دے،ایاز صادق کا بیان بالکل درست تھاکہ پائلٹ کو چھوڑنا ہی تھا تو دو سے چار روز انتظار کرلیا جاتا،وزیر اعظم عمران خان نے جلدی میں کام لیا کیونکہ وہ دباؤ برداشت نہیں کر پائے۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں،ادارے تبھی مضبوط ہوں گے جب آئین کے مطابق چلیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج دشمن کوجواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اختر مینگل اور ثنا اللہ زہری کے درمیان ایک تنازعہ ہے،ہم نہیں چاہتے تھے کہ ثنا اللہ زہری جلسے میں شریک ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے فرمایا میں اور میرے فرشتے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہستی پر درود بھیجتے ہیں اور آپ بھی بھیجو، نبی مکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہر مسلمان کا رشتہ ایمان کا ہے،جس میں عشق مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ ہو وہ دل مردہ ہوجاتا ہے، ہمیں اپنے عمل سے نبی مکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت ظاہر کرنی چاہیے،محبت تبھی کامل ہوتی ہے جب ساتھ اطاعت بھی ہو۔ انہوں نے کہا کہ امت اس لئے بے بس نظر آتی ہے کہ ہم نے عمل چھوڑ دیا ہے،حضور نبی کریم ؐ کاحکم ہے سچ بولو، امانت میں خیانت نہ کرو، ہمسائے سے حسن سلوک کرو،ان چیزوں کا تعلق معاملات اور لوگوں کے ساتھ سلوک سے ہے،حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ دوچیزیں چھوڑ کر جا رہیں ایک قرآن اور دوسری سنت،قرآن اور سنت کو اپنا لیں تو ہم فقہ کے معاملات حل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کو حق دینے میں پیچھے رہ گئے ہیں،ترقی کرنے میں کسی یہود اور ہنود نے ہمارا ہاتھ نہیں روکا،ہماری عدالتوں میں ارشد ملک جیسے فیصلے ہوتے ہیں،وہ قوم کامیاب ہوتی ہے جو، علم، عدل، محنت اور تاپ تول میں پوری اترے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *