مائنس شریف خاندان! نئی پارٹی بنانے کی تیاریاں، اس سیاسی جماعت میں کون کون شامل ہوگا؟ پاکستانیوں کے لیے بڑی خبر

اسلام آباد( نیوز ڈیسک) سینئر صحافی و تجزیہ کار ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ جو میں دیکھ رہا ہوں اس کے مطابق مجھے تو ایک نئی پارٹی بنتی نظر آرہی ہے، جس میں شریف خاندان نہیں ہوگا۔تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں تجزیہ کرتے ہوئے ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ مجھے

ایک نئی پارٹی بنتی دکھائی دے رہی ہے جس میں سے شریف خاندان مائنس ہوگا، لوگ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ہم اب انہیں ووٹ نہیں دیں گے، اب میرا ایک اندازہ ہے، پیشگوئی ہے کہ لوگ وہی ہونگے ، پارٹی نئی ہوگی اور اس میں سے شریف خاندان مائنس ہوگا، یا پھر کوئی بہت بڑا سیاسی تہلکہ مچ سکتا ہے۔ اس سے قبل شیخ رشید بھی کہہ چکے ہیں کہ ن لیگ میں سے (ش) لیگ کا نکلنا طے ہے، دوسری جانب سینئر تجزیہ کار عمران یعقوب کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن اور حکومت نے مل کر اپنے معاملات طے نہیں کیے تو پھر کوئی تیسری قوت ضرور آئے گی ، اپوزیشن اپنی سیاست کی خاطر گلگت کی عوام کوحقوق سے محروم رکھ رہی ہے نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اپنی اے پی سی کے اعلامیے میں کہہ چکی ہے کہ حکومت سے کوئی تعاون نہیں کیا جائے گا، اسی وجہ سے آرمی چیف نے وہ میٹنگ کی جس میں وزیر اعظم شریک نہیں ہوئے ، اپوزیشن اپنی سیاست کی خاطر گلگت کی عوام کوحقوق سے محروم رکھ رہی ہے ، ماضی میں جس کی وفاقی حکومت ہو وہی کشمیر اور گلگت بلتستان میں حکومت بناتی آئی ہیں اس لیے اپوزیشن کو یہ خدشہ ہے کہ وہاں پی ٹی آئی کی حکومت نہ آجائے، گلگت بلتستان سی پیک کا بنیادی حصہ ہے ، لیکن گلگت بلتستان پر ہی حکومت کا کنٹرول نہ ہوا تو سی پیک کیسے کامیاب ہوگا ، ویسے بھی گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے حقوق ملنے چاہیئں اور انہیں ایک صوبہ ڈیکلیئر کیا جانا چاہیئے، مگر اس کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے اور اپوزیشن کی حمایت کے بغیر ایسا ممکن نہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن اور حکومت نے معاملات طے نہ کیے تو کوئی نہ کوئی تیسری قوت ضرور آئے گی جو کہ معاملات حل کرے ۔ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ انتظامی مقاصد کے لیے گلگت بلتستان کو صوبہ بنا سکتے ہیں تاہم تاحال اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوا وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں بھارت کی سرزنش ہو رہی ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.