خاندان جو آج بھی غاروں میں رہتے ہیں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) دہش-ت گر-دی کے خلاف جنگ میں جہاں پاک فوج نے بے مثال قربانیاں دیں وہیں قبائلی علاقہ جات کے پاکستانی شہریوں نے بھی وطن کی خاطر قربانی کی وہ مثالیں قائم کر دیں کہ سن کر سر ان کی عظمت میں جھک جائے۔ یہ سن کر ہی آپ کو حیرت ہو گی کہ وادی تیراہ میں دہش-ت گ-ردی کی اس جنگ میں بے گھر ہونے والے 12ہزار سے زائد خاندان گزشتہ 10سال سے انتہائی کسمپرسی کی حالت میں غاروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ جب دہ-شت گ-ردی کی جنگ میں فتح کی بات ہوتی ہے تو ان لوگوں کی بے مثال قربانیوں کا ذکر اس میں کم ہی سننے کو ملتا ہے۔

ویب سائٹ ’پڑھ لو‘ کے مطابق یہ خاندان وادی تیراہ کے علاقے رجگل سے تعلق رکھتے ہیں، جن کے گھر تو دہ-شت گ-ردی کی جنگ میں ت-باہ ہو گئے لیکن انہیں کبھی آئی ڈی پیز میں شمار نہیں کیا گیا۔چنانچہ انہیں کسی بھی طرح کی حکومتی امداد کبھی نہیں مل سکی اور یہ لوگ انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں غاروں میں زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وائس پی کے نے ایک ویڈیو میں ان لوگوں کی بے سروسامانی کو پاکستانیوں کے سامنے افشاءکیا ہے۔ ویڈیو میں غاروں میں رہنے والے ایک خاندان کا سربراہ شہزاد بتاتا ہے کہ انہیں اس غار میں رہتے ہوئے 10سال ہو گئے ہیں۔ ان کا خاندان 10افراد پر مشتمل ہے اور وہ مزدوری کرکے ان کا پیٹ پال رہا ہے۔ اسے دن بھر محنت کے عوض 500روپے ملتے ہیں جن میں خاندان کے لیے دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے آتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *